لاپتہ بچہ چار سال بعد والدین کو کیسے ملا؟

لاپتہ بچہ چار سال بعد والدین کو کیسے ملا؟

June 28, 2019 - 19:15
Posted in:

فاروق آباد شیخو پورہ سے 23 مئی 2015 میں لاپتہ ہونے والا 11 سالہ بچہ عمر نعمت چار سال بعد بالآخر اپنے والدین سے ملا۔ مگر چار سال تک پنجاب چائلڈ پروٹیکشن بیورو سیالکوٹ کے پاس رہنے والے بچے کو اتنا انتظار کیوں کرنا پڑا اور کیسے ایک مہینے کی کوششوں سے ایک بچھڑے بچے کو والدین سے ملوایا گیا؟محمد عمر نعمت کون ہے؟ عمر نعمت ضلع شیخو پورہ کے علاقے فاروق آباد کا رہائشی ہے اور اس کے والد کا نام نعمت ہے جو بس کنڈکٹر ہیں اور اپنی بیوی آسیہ کے ساتھ رہتے ہیں۔ عمر بچپن سے ہی چیزوں کو سمجھنے میں دیر لگاتا تھا یعنی ’سلو لرنر‘ تھا۔ اسی وجہ سے انھیں اپنے بارے میں زیادہ معلومات یاد نہیں تھیں۔ جس دن عمر لاپتہ ہوا اس دن وہ اپنی پھوپھی کے ساتھ گوجرانوالا کے علاقے راہ والی کے بس اڈے پر تھا جہاں سے وہ لاپتہ ہو گیا۔ تفصیلات کے مطابق وہ ایک بس یا ویگن میں سوار ہو کر سیالکوٹ کے علاقے ڈسکہ کے تھانہ دھرم پورہ کی حدود میں جا پہنچا جہاں پولیس نے مساجد میں اعلانات کروائے اور اس کے والدین کو تلاش کرنے کی مقامی طور پر کوشش کی۔ مگر ناکامی پر بچے کو چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کر دیا گیا جن کی زیرِ کفالت وہ چار سال تک رہا۔یہ بھی پڑھیےغیر تربیت یافتہ پولیس!کراچی میں لاپتہ ہونے والے بچے کہاں ہیں؟امریکہ: کیا ہر نوے سیکنڈ میں ایک بچہ لاپتہ ہوتا ہے؟

جب تلاش کا کام مکمل ہوا تو سیالکوٹ پولیس نے عمر کے والدین کو فاروق آباد سے سیالکوٹ بلوایا اور پھر وہ جذباتی لمحہ آیا جب عمر اپنی ماں سے چار سال سے زیادہ عرصے کے بعد ملا۔اس آپریشن میں مدد کرنے والے سب انسپکٹر محمد ندیم نے اس لمحے کے بارے میں بتایا کہ ’ان کے لیے یہ موقع ایسا تھا جب ایک بچھڑی ماں اپنے لختِ جگر سے برسوں کے بعد لپٹ کر اسے چوم رہی تھی۔‘ انھیں لگا کہ شاید اسی کام کی وجہ سے ان کی بخشش ہو جائے اور یہی نیکی شاید ان کے کام آجائے۔عمر کی پھوپھی نے بھی شکر ادا کیا کیونکہ بعض رشتے دار ان پر الزام عائد کر رہے تھے کہ انھوں نے بچے کو شاید غائب کر دیا ہے یا بیچ دیا ہے۔ ان کی خوشی بھی دیدنی تھی۔ ایک نیا آغازمستنصر فیروز نے بتایا کہ اس کامیابی نے ان کی حوصلہ افزائی کی ہے اور اسی ماڈل کا اطلاق کر کے مزید بچوں کو ان کے والدین سے ملوانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انھوں نے تجویز دی کہ اگر اس قسم کے کیسز میں رپورٹ درج کروانے والے والدین کا ڈی این اے نمونہ حاصل کیا جائے اور دوسری جانب چائلڈ پروٹیکشن بیورو اور دوسرے اداروں میں آنے والے بچوں کا بھی ڈی این اے نمونہ لیا جائے تو اس کا ایک ڈیٹا بیس بن سکتا ہے۔ان کے مطابق اس سے تلاش کے عمل میں نہ صرف آسانی پیدا ہو گی بلکہ بہت سے وسائل کی بھی بچت ممکن ہو سکے گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}