قومی توحید گروپ پر حملوں کا الزام اور کئی سوالات

قومی توحید گروپ پر حملوں کا الزام اور کئی سوالات

April 23, 2019 - 15:48
Posted in:

سری لنکا میں قومی توحید جماعت (این ٹی جے) پر مسیحی برادری کے اہم تہوار ایسٹر کے موقعے پر بم دھماکوں کے الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن اس گروپ کے بارے میں بہت کم معلومات دستیاب ہیں۔سری لنکا کے حکام نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں قومی توحید جماعت پر حملوں کا الزام لگایا ہے۔بہر حال نہ تو این ٹی جے اور نہ ہی کسی دوسرے گروپ نے ان سلسلہ وار بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے جن میں اب تک تقریباً 300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تاہم یہ الزامات سوال پیدا کرتے ہیں کہ آخر یہ این ٹی جے کیا ہے؟ابتداسوموار سے قبل جب تک کہ سری لنکا کی حکومت کے ترجمان نے یہ نام نہیں لیا تھا اس وقت تک بہت کم لوگوں نے این ٹی جے کے بارے میں سنا ہوا تھا۔اس گروپ کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ یہ سری لنکا کے ایک دوسرے اسلام پسند گروپ سری لنکا توحید جماعت (ایس این ٹی جے) سے نکلا ہے۔نسبتاً کم معروف ہے لیکن ایس این ٹی جے قدرے مستحکم ہے۔ اس کے سیکریٹری عبدالرازق کو سنہ 2016 میں بودھ مذہب کے خلاف نفرت بھڑکانے کے لیے گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد میں انھوں نے معافی مانگ لی تھی۔یہ بھی پڑھیےسری لنکا میں یومِ سوگ، ہلاکتوں کی تعداد 310 ہو گئی’سمجھتا تھا کہ سری لنکا نے تشدد پیچھے چھوڑ دیا ہے۔۔۔‘ سری لنکا میں ہونے والے حملوں کی تصویری جھلکیاںبعض رپورٹوں میں این ٹی جے کو گذشتہ دسمبر میں مرکزی سری لنکا کے موانیلا بودھ مندر میں توڑ پھوڑ کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا جس میں مندر سے باہر موجود مہاتما بدھ کے مجسمے کے چہرے کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔لیکن این ٹی جے سری لنکا کی اقلیتی آبادی کا انتہائی چھوٹا حصہ ہے۔ سری لنکا میں مسلمانوں کی آبادی دو کروڑ دس لاکھ ہے جو کہ ملک کا تقریباً ساڑھے نو فیصد ہے۔

مسٹر سینارتنے نے کہا: 'ہمیں نہیں لگتا کہ صرف ایک چھوٹا سا گروپ ملک میں اتنا کچھ کر سکتا ہے۔ ہم اب ان کے بین الاقوامی تعاون اور ان کے دوسرے لنکس کی جانچ کر رہے ہیں کہ انھوں نے یہاں کس طرح خودکش بمبار پیدا کیے اور انھوں نے اس قسم کے بم کیسے تیار کیے۔'سری لنکا کے ایوان صدر نے این ٹی جے کا براہ راست نام تو نہیں لیا لیکن انہی خیالات کا اظہار کیا کہ جو بھی گروپ حملے میں شامل تھا اسے بیرون ملک سے تعاون حاصل تھا۔صدر میتھری پال سریسینا کے ایک بیان میں کہا گيا کہ 'ایسی اطلاعات ہیں کہ مقامی دہشت گردوں کے ساتھ بین الاقوامی دہشت گرد گروپ ہیں۔ اور ان سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مدد لی جائے گی۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}