قطر کا پہلی بار کم سے کم اجرت کی حد مقرر کرنے کا اعلان

قطر کا پہلی بار کم سے کم اجرت کی حد مقرر کرنے کا اعلان

October 26, 2017 - 04:34
Posted in:

قطر نے’غیر ملکی مزدوروں‘ سے متعلق قوانین میں اصلاحات کا وعدہ کیا ہے جس میں پہلی بار کم سے کم اجرت کی حد مقرر کرنا بھی ہے۔ابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ مجوزہ اصلاحات کو کب نافذ کیا جائے گا۔قطر کی جانب سے لیبر قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن آئی ایل او کے ایک دن بعد ہونے والے اجلاس سے پہلے آیا ہے۔قطر میں کفالہ کی جگہ نیا قانون کتنی بڑی تبدیلی؟قطر پاکستانیوں کو ورک ویزے کیوں نہیں دیتا؟’قطر مزدوروں کا استحصال روکنے میں ناکام رہا ہے‘آئی ایل او نے پہلے ہی قطر کو غیر ملکی مزدوروں کے استحصال کو روکنے کے حوالے سے متنبہ کر رکھا ہے جبکہ قطر پر حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے سنہ 2022 کے فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کے سلسلے میں جاری تیاریوں کے دوران غیر ملکی کارکنوں کے حالاتِ کار اور رہائش کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔مزدوروں کی عالمی یونین آئی سی ٹی یو نے قطر کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ آئی سی ٹی یو کے جنرل سیکریٹری شیرن بورو نے کہا ہے کہ تبدیلی نے' حقیقی اصلاحات' اور جدید دور کی غلامی کے دور کو ختم کرنے کا عندیہ دیا ہےاقوام متحدہ کی ایجنسی آئی ایل او نے قطر کو غیر ملکی مزدوروں کی حالتِ زار کو بہتر کرنے کے حوالے سے نومبر تک کی مہلت دے رکھی تھی اور کہا تھا کہ اس کے ساتھ غیر معمولی اقدام کے طور پر باضابطہ تحقیقات شروع کی جا سکتی ہیں۔آئی ایل او کی گورننگ باڈی کا اجلاس چھبیس سے نو نومبر کے درمیان ہو رہا ہے۔

قطر میں ایک عرصے تک غیر ملکی مزدوروں کے لیے کفالہ کانظام رہا ہے جس کے تحت قطر میں کام کرنے والے کسی بھی شخص کو اپنی کمپنی کی اجازت کے بغیر نوکری تبدیل کرنے کے اجازت نہیں تھی جبکہ کوئی کمپنی یہ اجازت نہیں دیتی تھی اور کمپنی کی شرائط پر کام چھوڑنے کی صورت میں آپ کو گھر واپس بھیج دیا جاتا تھا اور آپ دو سال تک قطر کام کی غرض سے واپس نہیں آ سکتے تھے۔قطری حکام نے دسمبر 2016 میں کفالہ کے نظام کی جگہ غیر ملکیوں کے داخلے اور اخراج کے حوالے سے نیا قانون لاگو کرنے کا اعلان کیا تھا جس پر ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت دیگر حقوق انسانی کی تنظیموں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس تبدیلی کے باوجود یہ نظام ایسے ہی اپنی جگہ برقرار رہے گا۔قطر کے بارے میں مزید پڑھیے’بحران کا 2022 فٹبال ورلڈ کپ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا‘قطر میں پاکستانی خواتین اپنی جگہ بنا رہی ہیں14 ہزار گائیں قطر کا ہوائی سفر کریں گیخلیجی ممالک میں گھریلو ملازمین کی خرید و فروختآئی سی ٹی یو کا کہنا ہے کہ جن اصلاحات پر اتفاق رائے ہوا ہے ان میں نسل سے بلاتر سب مزدوروں کی کم سے کم اجرت کا تعین، کام دینے والا اپنے ملازمین کو قطر چھوڑنے سے نہیں روک سکے گا۔کاروباری اداروں کی بجائے شناختی دستاویزات ریاست جاری کرے گی۔ایک سینٹرل اتھارٹی ورک کنٹریکٹ کی شرائط پر نظر رکھے گی تاکہ ملازمت کی طے کردہ شرائط کو سخت شرائط سے تبدیل نہ کیا جا سکے۔ کام کی جگہ پر ملازمین کی کمیٹی بنائی جائے گی جس کے ساتھ شکایت کرنے کا طریقہ کار بھی موجود ہو گا۔آئی سی ٹی یو کے جنرل سیکریٹری شیرن بوروکا کہنا ہے کہ ابھی اس حوالے سے کافی کچھ کرنے کی ضرورت ہے اور آئی سی ٹی یو اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے قطر کے وزیرِ لیبر سے ملاقات کرے گی۔

قطر میں ایک اندازے کے مطابق 15 لاکھ غیر ملکی مزدور ہیں جن سے اکثریت کا تعلق ایشیائی ممالک سے ہے اور وہ تعمیراتی شعبے میں کام کرتے ہیں۔آئی سی ٹی یو کی 2013 کی ایک رپورٹ کے سنہ 2022 کے فٹبال عالمی مقابلوں کے لیے تعمیراتی منصوبوں میں کام کرنے والے کم از کم 12 سو مزدور ہلاک ہوئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کی تصدیق کرنا مشکل ہے تاہم بی بی سی کے 2015 کے ایک تجزیے کے مطابق یہ تعداد زیادہ ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کے بعد سے تعداد میں اضافہ ہو گیا ہو۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}