قدیم مصر میں بچوں کی تین ہزار سال پرانی لاشیں برآمد

قدیم مصر میں بچوں کی تین ہزار سال پرانی لاشیں برآمد

December 16, 2017 - 16:39
Posted in:

مصری حکام کا کہنا ہے کہ مصر کے شہر اسوان میں کھدائی کے دوران چار بچوں کی قبریں دریافت ہوئی ہیں جن کو تین ہزار سال قبل دفن کیا گیا تھا۔ مصر کے وزیر برائے نوادرات ڈاکٹر ایمن عشومی کا کہنا ہے کہ چار میں سے ایک قبر کو سویڈن اور مصر کی مشترکہ ٹیم نے دریافت کیا تھا اور اس بچے کے جسم پر اب بھی کپڑا موجود ہے جو اس کو حنوط کرنے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔ مصر: نئے مقبروں کی دریافت، حنوط شدہ لاش کی نمائشوائکنگز کے کفن پر ’اللہ‘ اور ’علی‘ کے الفاظ کیوں؟یہ چاروں لاشیں مصر کی 18 ویں صدی کی ہیں۔ بچوں کی تدفین کی جگہ ماہرین آثار قدیمہ نے جبل السلسلہ میں دریافت کی ہیں۔ ایک مقبرہ پتھر کو کاٹ کر بنایا گیا ہے جس میں دو یا تین سال کے بچے کی لاش ہے۔ اس قبر میں سے حنوط کے لیے استعمال کیے جانے والے کپڑے کے علاوہ لکڑی کے کفن کے آثار بھی ملے ہیں۔

انھوں نے کہا یہ مقبرہ قبرستان کے نیچے دریافت ہوا ہے اور اس کی چھت پر ساحورع بادشاہ کی شبیہہ ہے۔ تیسری دریافت اسوان کے علاقے سے ہوئی جہاں ایک خاتون کا نامکمل مجسمہ دریافت ہوا ہے۔ اس مجسمے کو چونے کو کاٹ کر بنایا گیا ہےآ اس مجسمے کا سر، دونوں پیر اور دائیں ہاتھ نہیں ہے۔ اس مجسمے کی اونچائی 14 انچ ہے۔ نوادارت کے مقامی سربراہ عبدالمونیم کا کہنا ہے کہ جو لباس اس مجسمے نے زیب تن کیا ہوا ہے وہ یونانی دیوی ارتمیس کے لباس سے مماثلت رکھتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}