فوج کے دو افسر جاسوسی کے الزام میں گرفتار

فوج کے دو افسر جاسوسی کے الزام میں گرفتار

February 22, 2019 - 17:47
Posted in:

پاکستان فوج کے ترجمان نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستانی فوج کے دو اعلیٰ افسروں کے خلاف جاسوسی کے الزامات کی تحقیقات ہو رہی ہے۔پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ا ن خبروں کی تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوج کے دو سینیئر افسران کو جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ گرفتار ہونے والے افسران کسی نیٹ ورک کا حصہ نہیں ہیں اور یہ دونوں انفرادی کیسز ہیں۔ فوج کے ترجمان نے کہا کہ دونوں افسران کا مقدمہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل میں چل رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اعلیٰ افسران کی نشاندہی اور گرفتاری پاکستان کی کامیابی ہے کیونکہ ایسے معاملات ہوتے رہتے ہیں۔ یہ بھی پڑھیئےبات چیت کا وقت ختم،اب کارروائی کا وقت ہے: مودی حملے کی صورت میں جوابی حملہ کریں گے: عمران خان

پاکستان فوج کے ترجمان نے مزید کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل (ریٹائرڈ) اسد درانی کے خلاف ہونے والے انکوائری میں انھیں فوجی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ جنرل اسد درانی جو اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے انھوں نےجس طریقے سے کتاب لکھی اور جس طرح کے روابط رکھے وہ ملٹری ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ انھوں نے کہا جنرل اسد درانی کی پینشن اور تمام مراعات ختم کر دی گئی ہیں لیکن ان سے ان عہدہ نہیں چھینا گیا۔ انھوں نے کہا کہ اسد درانی کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ پاکستان بھارت کی طرف سے کسی قسم کے حملے کے خطرے سے نمٹنے کے لیے بلکل تیار ہے۔ انھوں نے کہا کہ انڈیا میں ایسی خبریں آ رہی ہے کہ پاکستان حملے کی تیاری کر رہا ہے۔ ’ہم ایک خود مختار ملک ہیں اور اپنے دفاع کے لیے سب کچھ کرنے کا حق حاصل ہے۔‘ یہ بھی پڑھیئےدی سپائی کرونیکلز: اسد درانی کا نام ای سی ایل میں شاملانھوں نے کہا ماضی میں پاکستان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں، لیکن پاکستان نے ان سے سبق سیکھا ہے اور آئندہ کوئی غلطی کرنے کا ارادہ نہیں ہے۔ مزید تفصیلات تھوڑی دیر بعد ۔۔۔۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}