عمران خان کے معافی مانگنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی ختم

عمران خان کے معافی مانگنے پر توہینِ عدالت کی کارروائی ختم

October 26, 2017 - 13:16
Posted in:

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے خلاف توہین عدالت کے مقدمے کی کارروائی ملزم کی طرف سے پیشی اور اپنے الفاظ پر اظہارِ افسوس کے بعد ختم کر دی ہے۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق الیکشن کمیشن کے حکام کا کہنا ہے کہ عمران خان نے غیرمشروط معافی مانگی ہے جبکہ تحریری جواب میں 'معافی' کی بجائے 'پچھتاوے' کا لفظ موجود ہے۔توہین عدالت کے معاملے میں الیکشن کمیشن نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے تھے اور اُنھیں 26 اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دے رکھا تھا تاہم اسلام آباد ہائی کورٹ نے ان کے یہ وارنٹ معطل کر دیے تھے۔عمران خان نے غیر ملکی فنڈنگ کے مقدمے میں ہونے والی کارروائی پر الیکشن کمیشن کو تعصب زدہ قرار دیا تھا۔یہ بھی پڑھیے’عمران خان کو گرفتار کر کے پیش کریں‘’کمیشن کو نااہلی کیس کی سماعت کا اختیار نہیں‘’یہ الیکشن کمیشن ہے آڑھت کی دکان نہیں‘جمعرات کے روز الیکشن کمیشن میں ہونے والی توہین عدالت کی کارروائی کے دوران عمران خان پیش ہوئے ۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان کی سربراہی میں الیکشن کمیشن کے پانچ رکنی بینچ نے توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کی۔عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے موکل کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی ختم کرنے کی استدعا کی جس پر بینچ میں موجود الیکشن کمیشن کے رکن ارشاد قیصر نے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل الیکشن کمیشن میں غیر مشروط معافی مانگنے کو تیار ہیں جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ہم دو مرتبہ پہلے معافی مانگ چکے ہیں۔چیف الیکشن کمشنر نے بابر اعوان سے استفسار کیا کہ اُنھوں نے جمع کرائی گئی دستاویز اپنے موکل کو دکھائی ہیں اور کیا جواب واپس لینے سے توہین آمیز الفاظ بھی واپس ہوجاتے ہیں؟عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ 'میں دو مرتبہ معافی مانگ چکاہوں کیا اس کے بعد بھی توہین عدالت کی کاروائی کی گنجائش باقی ہے؟چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ سردار رضا خان نے عمران خان کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ زبانی معاملات نہیں چلیں گے وہ تحریری معافی نامہ لکھکر دیں۔پہلے جواب سے الیکشن کمیشن غیر مطمئن تھا جس پر بینچ کے رکن ارشاد قیصر کا کہنا تھا کہ 'آپ ہمیں غیرمشروط معافی نامہ لکھ کر دیں۔'درخواست گزار اکبر ایس بابر کے وکیل احمد حسن کا کہنا تھا کہ وکیل کی بجائے عمران خان کو روسٹرم پر بلایا جائے جس پر بابر اعوان کا کہنا تھا کہ ملک میں مارشل لا نہیں ہے کہ وکیل کو ہٹا دیا جائے۔

بینچ کے سربراہ نے عمران خان کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ ٹرائل کا سامنا کرنا چاہتے ہیں تو اُنھوں نے کہا کہ توہین عدالت کی کاروائی میں اتنی لمبی بحث نہیں ہوتی۔چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ توہین عدالت کے مرتکب نہیں ہوئے جبکہ دوسری طرف اس بات کو تسلیم بھی کرتے ہیں لیکن آپ کے جواب میں ایک لفظ بھی ایسا نہیں جس میں ندامت کا اظہار ہو۔اس پیش رفت کے بعد عمران خان نے اپنے وکلا اور پارٹی کے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد تحریری معافی نامہ بھی لکھ کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اُنھوں نے الیکشن کمشن کے بارے میں جو الفاظ کہے تھے اس پر اُنھیں پچھتاوا ہے۔عمران خان اس کے بعد روسٹرم پر آئے اور یہی الفاظ دھرائے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ گذشتہ سال سے آزاد عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں جس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے47 سال وکالت کی ہے جس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہہ بلند ہوا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ ان کی الیکشن کمیشن پر تنقید کا مقصد کسی کو عوام کی نظروں میں نیچا دکھانا نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد اداروں میں اصلاح لانا تھا جس پر بینچ کی طرف سے کہا گیا کہ تنقید کے دوران الفاظ کا چناو اور اداروں کا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔بعدازاں الیکشن کمیشن نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کو نمٹا دیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}