صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدہ ختم نہ کرنے کا عندیہ

صدر ٹرمپ کی جانب سے جوہری معاہدہ ختم نہ کرنے کا عندیہ

October 14, 2017 - 00:30
Posted in:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی بطور ’تشدد پسند حکومت‘ کے مذمت کی ہے اور بین الاقوامی جوہری معاہدے کی حمایت جاری رکھنے سے انکار کر دیا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کو کانگریس میں بھیجیں گے اور اس میں تبدیلی لانے کے لیے اتحادیوں سے بات چیت کریں گے۔انھوں نے ایران پر شدت پسندوں کی سرپرستی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ وہ اس کے ’جوہری ہتھیاروں کی جانب تمام راستے‘ بند کر دیں گے۔٭ ’ٹرمپ کو ایران جوہری معاہدہ ختم نہیں کرنے دیں گے‘٭ ’ایران نے میزائل تجربہ نہیں کیا‘، ٹرمپ کا جھوٹی خبر پر ٹویٹدوسری جانب بین الاقوامی آبزورز کا کہنا ہے کہ ایران 2015 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سے جوہری پروگرام کو بند کرنے پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔تاہم صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ انتہائی نرم ہے اور ’ایران کئی مرتبہ اس کی خلاف ورزی کر چکا ہے‘۔ان کا کہنا ہے کہ ’ایران موت، تباہی اور افراتفری پھیلا رہا ہے۔‘امریکی صدر نے کہا کہ ’ایران معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں کر رہا جبکہ پابندیاں اٹھائے جانے سے بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے۔‘

ان کے مطابق ان کی نئی حکمت عملی اس سب کو ٹھیک کر دے گی۔انھوں نے کہا کہ امریکہ اس معاہدے کو کسی بھی وقت چھوڑنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ان کی تقریری کے چند ہی منٹوں بعد یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ فیڈریکا موگیرینی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ ’یہ معاہدہ انتہائی طاقتور ہے اور اس کی کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی گئی ہے۔‘فیڈریکا موگیرینی نے کہا کہ ’اس معاہدے کو ختم کرنے کی طاقت دنیا کے کسی صدر کے پاس نہیں ہے۔ یہ معاہدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے بنایا گیا ہے۔‘واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور روس کے ساتھ ساتھ جرمنی کے درمیان ہونے والے معاہدے کو نہ چھورنے کے لیے اندرونی اور بیرونی دباؤ تھا۔انھوں نے جوہری معاہدے سے ہٹ کر ایران کی دیگر سرگرمیوں خاص طور پر پاسدارن انقلاب پر بھی بات کی۔ خیال رہے کہ صدر ٹرمپ پاسدارن انقلاب کو ’ایران کے قائد کی بدعنوان لوگوں پر مشتمل دہشت پھیلانے والی فورس‘ قرار دے چکے ہیں۔امریکی صدر کی جانب سے ایرانی معاہدے پر کی جانے والی سب سے اہم تنقید یہ تھی کہ اس معاہدے میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا احاطہ نہیں کیا گیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}