شجاعت کے قتل کا الزام پاکستانی شدت پسندوں پر

شجاعت کے قتل کا الزام پاکستانی شدت پسندوں پر

June 28, 2018 - 21:18
Posted in:

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل کے تانے بانے پاکستان میں کلعدم تنظیم لشکرِ طیبہ سے ملتے ہیں۔ ایک اعلیٰ پولیس اہلکار کا کہنا ہے کہ انڈیا اور پاکستان ’لیگل اسسٹنس ٹریٹی‘ نامی معاہدے کے تحت شواہد کے تبادلے کے پابند ہیں۔ پاکستان میں عسکری گروہوں کے اتحاد یونائیٹڈ جہاد کونسل اور لشکر طیبہ نے الگ الگ بیانات میں اس قتل کی مذمت کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا کہ شجاعت بخاری کے قتل اور ان کے ساتھ اختلاف رائے کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔ نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق جموں و کشمیر کے انسپیکٹر جنرل ایس پی پانی نے رپورٹرز کو بتایا کہ ’اس کیس کے دو حصے ہیں، ایک سازش اور دوسرا قتل۔ پاکستان میں مقیم ایک ساجد گل نامی کشمیری نے شجاعت کے خلاف سوشل میڈیا مہم چلا رہا تھا۔ ہمارے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ اس سازش کے پیچھے وہ ہے۔‘اسی بارے میں’میرے افسر تم کہاں چلے گئے‘شجاعت بخاری: ’کشمیر کی کہانی کو بیان کرنے میں ماہر‘پولیس افسر کا کہنا تھا کہ قتل کی سازش کو تین افراد نے انجام تک پہنچایا جن میں لشکر طیبہ کے نوید بٹ بھی شامل ہیں جو جنوری میں پولیس کی قید سے فرار ہوگئے تھے۔ انسپیکٹر جنرل پانی نے اشارہ دیا کہ وہ پاکستان سے ساجد گل کی حوالگی بھی چاہتے ہیں۔ دیگر دو افراد میں آزاد ملک اور مظفر احمد شامل ہیں جن کا تعلق اننتناگ اور کلگام سے بتایا گیا ہے۔ پولیس نے ان چاروں افراد کی تصاویر جاری کی ہیں جو شجاعت بخاری کے قتل کے ایک دن بعد کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے حاصل کی گئی تھیں۔ پولیس سربراہ کا کہنا تھا کہ ’اس قتل کے پیچھے یہ افراد ہیں اور اب یہ قانون کو مطلوب ہیں۔‘50 سالہ شجاعت بخاری 30 سال سے کشمیر میں صحافت کر رہے تھے۔ وہ 12 سال تک انڈیا کے انگریزی روزنامہ دی ہندو کے ساتھ وابستہ رہے جس کے بعد انھوں نے اپنا اخبار رائزنگ کشمیر کے نام سے سنہ 2008 میں شروع کیا۔ شجاعت بخاری نے دنیا کے کئی ممالک میں امن اور سکیورٹی کی کانفرنسوں میں حصہ لیا۔50 سالہ شجاعت بغاری نے سوگواران میں والدین، اہلیہ اور دو بچے چھوڑے ہیں۔واضح رہے کہ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں 90 کی دہائی سے شروع ہونے والی شورش میں کئی صحافی ہلاک ہو چکے ہیں اور پولیس ان کی ہلاکت کی ذمہ داری جنگجوؤں پر ڈالتی ہے۔دلی میں مقیم ایک کشمیری صحافی اور شجاعت بخاری کے پرانے دوست افتخار گیلانی کا کہنا ہے کہ قتل سے چند منٹ قبل شجاعت نے انہیں فون کرکے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ 14 جون کو جونہی شجاعت بخاری اپنے دفتر سے نکلے تو انہیی ان کے دو محافظوں سمیت گولیوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}