شام: باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں بمباری، ’درجنوں ہلاکتیں‘

شام: باغیوں کے زیرانتظام علاقے میں بمباری، ’درجنوں ہلاکتیں‘

February 20, 2018 - 10:07
Posted in:

انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ شام میں دارالحکومت دمشق کے نواح میں باغیوں کے زیرانتظام علاقے مشرقی غوطہ میں سرکاری افواج کی بمباری سے درجنوں عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔سیریئن اوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ پیر کو کیے جانے والے فضائی اور راکٹ حملوں میں 20 بچوں سمیت کم از کم 77 عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ قیاس ہے کہ سرکاری افواج زمینی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ بمباری کو روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ایک اہلکار نے کہا ہے کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جارہی ہے۔ خیال رہے کہ مشرقی غوطہ کا علاقہ سنہ 2013 سے محاصرے میں ہے اور یہاں تقریباً چار لاکھ افراد مقیم ہیں۔ یہ دارالحکومت دمشق کے قریب حکومت مخالف باغیوں کے زیرانتظام آخری محصور علاقہ ہے۔یہ بھی پڑھیں!اسرائیل کی شام میں فضائی حملوں کے بعد ایران کو تنبیہشام میں فوجی اڈے پر اسرائیلی فضائی حملہ’شام میں امریکی فوج رکھنا تباہ کن غلطی ہے‘رواں ماہ کے آغاز میں شامی افواج نے اس علاقے کا انتظام دوبارہ حاصل کرنے کے لیے کارروائیوں میں تیزی کی تھی جس میں مبینہ طور پر سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔اس کے باعث اس علاقے میں عام شہریوں کو سامان پہنچانے کے لیے جنگ بندی بھی ہوئی تھی۔دوسری جانب ترکی نے خبردار کیا ہے کہ شامی حکومت شمالی شام میں کردوں کے خلاف لڑنے والے ترک افواج کی مدد نہ کرے۔غوطہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن اوبزرویٹری نے مطلع کیا ہے اور اس کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

محصور علاقے کے ایک قصبے حموریہ سے موصول ہونے والی ایک ویڈیو میں لوگوں کو تباہ شدہ عمارتوں سے نکلتے دیکھا جاسکتا ہے، اس قصبے میں مبینہ طور پر 20 افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔دسمبر میں بین الاقوامی امدادی اداروں نے باغیوں کے زیرانتظام اس علاقے کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ یہاں خوراک، ایندھن اور ادویات کی کمی کی وجہ سے شہریوں کے حالات 'انتہائی نازک' ہیں۔اقوام متحدہ کے علاقائی کوارڈینیٹر پنوس مومٹزس کا کہنا تھا کہ مشرقی غوطہ میں 'احمقانہ انسانی تکالیف' کو ختم کرنا 'ناگزیر' ہے۔ تاہم روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف کا کہنا ہے کہ محصور علاقے کے حالات کو بین الاقوامی عناصر بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ آئندہ ماہ شام میں خانہ جنگی کو سات سال مکمل ہوجائیں گے۔شام میں جاری اس خانہ جنگی میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق پچاس لاکھ افراد ملک چھوڑ چکے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}