سیاح جوڑے پر تاج محل کے قریب حملہ

سیاح جوڑے پر تاج محل کے قریب حملہ

October 26, 2017 - 16:41
Posted in:

div class="story-body" style="direction:rtl;"

div class="with-extracted-share-icons"

/button
/div
/li
/ul/div

/div
/div
/div
/div

div class="story-body__inner" property="articleBody"
figure class="media-landscape has-caption full-width"span class="image-and-copyright-container"

img src="https://ichef.bbci.co.uk/news/320/cpsprodpb/4932/production/_98483781_im..." style="width=100%; max-width=640;"

/span

/figurepانڈیا میں پولیس کا کہنا ہے کہ سوئٹزر لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے پر تاج محل سے 44 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فتح پور سیکری کی یادگار کے احاطے میں حملہ کیا گیا۔ /ppایک سینیئر پولیس افسر نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ ضلع آگرہ میں چار افراد نے کوئنٹن جیرمی کلیرک اور میری ڈروز پر ایک بحث کے بعد حملہ کر دیا۔ /ppa href="/urdu/regional-39288285" class="story-body__link"انڈیا: برطانوی خاتون کے قتل کے بعد گرفتاری /a/ppa href="/urdu/regional-39414832" class="story-body__link"انڈیا: افریقی نسل کے باشندوں پر حملہ، چھ افراد گرفتار/a/ppمقامی میڈیا کے مطابق کلیرک کے سر کی ہڈی میں فریکچر آیا ہے جبکہ مِس ڈروز کے ہاتھ کی ہڈی ٹوٹی گئی۔ /ppان دونوں کا دلی کے ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔ تاحال اس معملے میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی ہے۔ /ppکلیرک نے انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کو بتایا کے بحث اس وقت شروع ہوئی جب ایک شخص نے ان کی تصاویر لینا شروع کر دیں۔ /ppخبر میں پولیس کے حوالے سے لکھا گیا کہ حملہ آوروں نے زبردستی میری ڈروز کے ساتھ سیلفی لینے کی کوشش کی اور ایک گھنٹے تک ان کا پیچھا کرتے رہے۔ جس کے بعد انھوں نے ان پر ڈنڈوں سے حملہ کر دیا۔ /ppآگرہ کے پولیس سپریٹنڈنٹ امت پاٹھک نے کہا مشتبہ افراد کی شناخت کر لی گئی ہے اور انہیں جلد ہی گرفتار کر لیا جائے گا۔ /ppان کا کہنا تھا کہ ’یہ جوڑا پولیس سٹیشن آیا اور ہم انہیں علاج کے لیے ہسپتال لے گئے۔ وہ رپورٹ درج نہیں کروانا چاہتے لیکن ہم پھر بھی ان چاروں آدمیوں کے خلاف کیس درج کریں گے۔‘/ppانڈیا کی وزیرِ خارجہ سشما سوراج نے جمعرات کو اتر پردیش کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ انہیں اس معاملے کی رپوٹ دیں۔ /p
/div
/div
div style="direction:rtl;"BBCUrdu.com بشکریہ/divbrbrstylebody {direction:rtl;} a {display:none;}/style