سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کا حقِ دفاع ختم

سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کا حقِ دفاع ختم

June 12, 2019 - 15:26
Posted in:

پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر کا دفاع کا حق ختم کرتے ہوئے اُن کے وکیل سے کہا ہے کہ اب وہ ان کا دفاع نہیں کر سکتے۔نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے مشرف کے مسلسل غیر حاضر رہنے پر ان کا دفاع کا حق ختم کیا ہے۔ پرویز مشرف گزشتہ تقریباً ڈھائی برس سے دبئی میں رہ رہے ہیں۔ یہ بھی پڑھیےپرویز مشرف واپس نہیں آئے، نااہلی کا فیصلہ برقرارپرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاکپرویز مشرف کا بیان سکائپ پر ریکارڈ کرنے کا حکمپرویز مشرف کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطے کا حکماب خصوصی عدالت پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرے گی۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ مقدمہ ملزم پرویز مشرف پر آرمی چیف کی حیثیت سے تین نومبر سنہ 2007 کو ملک کا آئین معطل کر کے ایمرجنسی لگانے کے اقدام پر درج کیا گیا تھا۔سنہ دو ہزار چودہ میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اگر مشرف پر بغاوت کا الزام ثابت ہوجائے تو انھیں پھانسی یا عمر قید ہو سکتی ہے۔پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی سمیت چار مقدمات ہیں جس میں مختلف عدالتوں نے اُنھیں نہ صرف اشتہاری قرار دیا ہوا ہے بلکہ ان کی جائیداد کی قرقی کے احکامات بھی جاری کر رکھے ہیں۔اپنے وکیل کے ذریعے سابق فوجی صدر نے اس شرط پر وطن واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ سپریم کورٹ اُن کے خلاف درج ہونے والے تمام مقدمات میں ضمانت دے۔بلوچستان ہائی کورٹ کی چیف جسٹس طاہرہ صفدر کی سربراہی میں خصوصی عدالت نے اب وزارت قانون سے وکلاء کے نام مانگے ہیں جن میں سے کسی ایک وکیل کا انتخاب کیا جائے گا جو کہ اس مقدمے میں عدالت کی معاونت کرے گا۔خصوصی عدالت نے 12 جون کو ملزم پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کی تو ملزم کے وکیل نے التوا کی ایک اور درخواست دائر کر دی۔ پرویزمشرف کے وکیل نے اس درخواست میں موقف اپنایا کہ بار بارالتوا کی درخواست پر اُنھیں شرمندگی ہوتی ہے تاہم ان کے موکل زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور وہ ذہنی اورجسمانی طور پر وطن واپس آنے کے قابل نہیں ہیں۔اُنھوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر پیدل نہیں چل سکتے اور وہیل چیئر پر ہیں جس پر جسٹس طاہرہ صفدر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے حکم جاری کر رکھا ہے کہ اس مقدمے کا جلد از جلد فیصلہ کیا جائے ۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال مارچ میں خصوصی عدالت نے وزارت داخلہ کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کرے اور انھیں گرفتار کر کے خصوصی عدالت کے سامنے پیش کرے۔اس کے بعد گزشتہ اکتوبر میں ہی خصوصی عدالت نے مشرف کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے ایک عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا فیصلہ سنا دیا۔ مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ کہ مشرف ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کو تیار نہیں ہیں۔ وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ ملزم پرویز مشرف کو بارہا عدالت میں پیش ہونے کے مواقع فراہم کیے گئے لیکن اُنھوں نے اس کا فائدہ نہیں اُٹھایا۔مئی دو ہزار سولہ میں عدالت نے جنرل مشرف کو مفرور قرار دے کر وفاقی تحقیقاتی ادارے، ایف آئی اے، کو انھیں 12 جولائی 2016 کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جنرل مشرف نے کہا تھا کہ وہ فوج کی حفاظت اور اس یقین دہانی کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں کہ انھیں دبئی واپس جانے دیا جائے گا۔سپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ 'اتنا بڑا کمانڈو وطن واپس آنے سے کیوں خوف زدہ ہے۔' سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے دور میں ہی سپریم کورٹ کے حکم پر وزارت داخلہ نے پرویز مشرف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بحال کر دیا تھا لیکن اس کے باوجود مشرف وطن واپس نہیں آئے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}