سعودی عرب کو کسی سے ڈر کیوں نہیں لگتا؟

سعودی عرب کو کسی سے ڈر کیوں نہیں لگتا؟

June 26, 2019 - 21:10
Posted in:

اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں حال ہی میں سفارش کی گئی کہ سعودی حکومت کے اہم ارکان کی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے مقدمے میں تفتیش ہونی چاہیے۔ رپورٹ میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو اس قتل کے مقدمے میں شاملِ تفتیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ نے امریکہ سے درخواست کی کہ اس معاملے کی تفتیش امریکی ایجنسی ایف بی آئی کرے، جسے امریکی صدر نے مسترد کر دیا۔ ایران سمیت متعدد ممالک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کے بارے میں امریکہ بڑھ چڑھ کر تنقید کرتا ہے، لیکن جب سعودی عرب کی بات آتی ہے تو وہ خاموش ہو جاتا ہے۔کیا سعودی عرب کسی سے نہیں ڈرتا ہے؟ سعودی عرب سے کون ڈرتا ہے؟ان دونوں ہی سوالات کے جواب امریکہ بخوبی جانتا ہے۔ دو برس قبل سعودی عرب نے قطر کے خلاف ناکہ بندی کی اور تمام سفارتی تعلقات ختم کر دیے۔ تب متحدہ عرب امارات، بحرین، مصر، مالدیو، ماریٹانیا، کوموروس، یمن کی جلا وطن حکومت اور لیبیا نے سعودی عرب کا ساتھ دیا تھا۔یہ بھی پڑھیےخاشقجی قتل: ریاض نے اقوامِ متحدہ کی رپورٹ مسترد کر دیسینیٹ کی سعودی عرب کو اسلحہ بیچنے کی مخالفتالعلا: سعودی عرب کا صدیوں پرانا قصبہسعودی عرب کا الزام تھا کہ قطر دہشتگرد سرگرمیوں کا ساتھ دے رہا ہے۔ سعودی عرب نے قطر کے طیاروں کے لیے اپنے فضائی حدود بند کر دیں، قطر کو اپنے پڑوسی ممالک سے الگ تھلگ کر دیا گیا، یہ صورتحال آج بھی جاری ہے۔ سعودی عرب نے خود کو مشرق وسطیٰ میں بڑی طاقت کے طور پر منوا لیا ہے۔ سعودی عرب کی کوشش ہے کہ تمام سنی مسلم ممالک خاص طور پر خلیج عرب کے ممالک اس کے زیر اثر رہیں۔ قطر نے بات نہیں مانی تو اس کے خلاف ناکہ بندی آج بھی جاری ہے۔ سعودی عرب کا یہ رویہ صرف قطر کے ساتھ نہیں ہے۔ اصل نشانہ ایران ہے جسے سعودی عرب اپنا حریف مانتا ہے۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ سعودی عرب کے علاقے کا بڑا بننے کی تمام کوششوں کے باوجود اس کا ہر قدم بیک فائر بھی کر رہا ہے۔ سعودی کی ناکہ بندی سے قطر جھکا اور اور نہ ہی اسے کوئی بڑا نقصان ہوا۔ تاہم اس کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ سعودی کمزور پڑا ہو، بالکہ کئی معاملوں میں وہ مضبوط ہو گیا ہے۔ تیل اور قدرتی گیس کے باعث سعودی عرب کی دولتمندی کوئی نئی بات نہیں۔

امریکہ کا مفاد داؤ پرمشرقی وسطیٰ میں سعودی عرب کے جارحانہ رویہ کی وجہ سے وہاں امریکہ کا مفاد متاثر ہورہا ہے۔ یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں سے عام شہری اور معصوم بچے مررہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ سعودی عرب یمن میں امریکی ہتھیاروں کے دم پر لڑائی لڑرہا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے یمن اور قطر پر پابندیاں عائد کر کے امریکہ کو بے چین کردیا ہے۔مشرقی وسطیٰ میں امریکی ائیر فورس کا سب سے بڑا اڈہ ہے۔ سعودی عرب کے اس قدم سے خلیج تعاون کونسل کی ساکھ بھی کمزور ہوگئی ہے۔ اس میں خلیج کے چھ ممالک ہیں۔امریکہ کے کہنے پر ہی سعودی عرب بہت لمبے وقت سے تیل کی پیداوار بڑھانے پر متفق ہے۔امریکہ کے فوجی ہتھیار خریدنے کے لیے سعودی عرب سب سے بھروسے مند منڈی ہے۔ صرف اوباما کے دور اقتدار میں ہی سعودی عرب نے امریکہ سے دو سو ارب ڈالر کا سودا کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ولی عہد 110 ارب ڈالر کا اور ایسا سودا کریں جس سے ایران کا مضبوطی سے سامنا کیا جاسکے۔ نیوز ویک سے بات کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک سفارتکار نے کہا ہے کہ گزشتہ برس ٹرمپ نے ایک سو دس ارب ڈالر کے ہتھیاروں کے سودے کی سرعام بات کی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سودے پر اب تک دستخط نہیں ہوئے ہیں۔اگر ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ سے اسلحہ خریدنا بھی چاہیں تو اس کے لیے امریکہ کے اندر بھی بہت سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اسی سال نو اگست کو یمن میں سعودی عرب کی فضائی حملے کی زد میں ایک سکول بس آگئی تھی جس میں چالیس بچے ہلاک ہوگئے تھے۔ اس کے بعد امریکہ میں یہ سوال زیادہ اٹھنے لگا تھا کہ وہ اس لڑائی میں سعودی عرب کی مدد کیوں کررہا ہے۔ اس بارے میں امریکی کانگریس میں ٹرمپ انتظامیہ سے متعدد سوالات پوچھے جارہے ہیں۔ حال ہی میں امریکی کانگریس نے سعودی عرب کے ساتھ ہونے والے دو ارب کے ہتھیاروں کے سودے کو روک دیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}