سر باجوہ، نہ کریں!

سر باجوہ، نہ کریں!

June 27, 2019 - 20:03
Posted in:

سپہ سالار جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ میں ابھی کئی مہینے باقی ہیں لیکن اسلام آباد کی اقتدار کی غلام گردشوں سے اندر کی خبر ڈھونڈ لانے والے چیتے رپورٹر اور سارے ستارہ شناس تجزیہ نگار مصر ہیں کہ ایکسٹینشن پکی۔سپہ سالار کے مزاج اور ان کی باجوہ ڈاکٹرائن سے واقف دفاعی تجزیہ نگار یہ تاویلیں بھی لا رہے ہیں کہ باجوہ صاحب تو نہیں چاہتے لیکن ملکی حالات، سرحدوں پر منڈلاتے بادل اور جنوبی پنجاب کی پہچان - ڈی ایچ اے ملتان کا تقاضا یہی ہے کہ وہ دل پر پتھر رکھ کر اپنی ذمہ داریاں تین سال تک اور نبھاتے رہیں۔ افواہوں کی بھی ایک سائنس ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے جنرل صاحب کے دل میں کبھی ایکسٹینشن کا خیال ہی نہ آیا ہو، ہو سکتا ہے انھوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد گالف کھیلنے کے لیے نئی کِٹ بھی خرید لی ہو لیکن اب ہر روز اسی طرح کی پیش گوئیاں سن کر وہ بھی ایک سابق چیف جسٹس کی طرح یہ سوچنے لگیں کہ پتہ نہیں میرے جانے کے بعد اس ملک کا کیا ہو گا۔ یہ بھی پڑھیےکیا سب کو چھوڑ دیں؟عمران خان کے ’سنہرے دن‘ہمارے اور اُن کے ریلو کٹےیہ کرکٹ ہے یا کچھ اور!اس طرح کی افواہوں کی سائنس کے تجربے ہم سکول کے دنوں میں کر چکے ہیں۔ٹیچر کلاس روم میں آتا تھا اور ایک باقاعدہ سازش کے تحت ایک طالب علم ہاتھ کھڑا کرتا تھا اور پوچھتا تھا کہ سر کیا سپورٹس ڈے کے اگلے دن چھٹی ہے۔ وہ کہتا تھا کہ نہیں مجھے تو کسی نے نہیں بتایا۔یہی سوال کلاس میں ہر آنے والے ٹیچر سے دہرایا جاتا تھا، ٹیچر سٹاف روم میں جا کر ایک دوسرے سے پوچھتے تھے، پی ٹی آئی ماسٹر آئیڈیا لے کر ہیڈ ماسٹر کے پاس پہنچ جاتا تھا اور چھٹی ہو جاتی تھی۔ اگرچہ جنرل قمر باجوہ نے اپنے یا ملک کے مستقبل کے بارے میں مجھ سے کبھی مشورہ نہیں مانگا لیکن مشورہ حاضر ہے، سر ایکسٹینشن نہ لیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ سپہ سالار کسی سیاستدان سے ایکسٹینشن لیتا اچھا نہیں لگتا۔ جو خود اپنے آپ کو ایکسٹینشن دیتے ہیں تاریخ ان کو یاد رکھتی ہے۔ جنرل ایوب خان نے کبھی ایکسٹینشن مانگی؟ آج بھی لوگ ان کے دورِ حکمرانی کو یاد کرتے ہیں اور کوئی کرے نہ کرے عمران خان تو بہت یاد کرتے ہیں۔جنرل ضیا نے اپنے آپ کو ایکسٹینشن پر ایکسٹینشن دی اور سوویت یونین کے حصے بخرے کر دیے۔ جنرل مشرف کی وردی اتارنے کا معاملہ انتہائی بے شرمی کے ساتھ ٹی وی پر زیرِ بحث رہا۔ انھوں نے اتار کے نہ دی اور ڈالر کئی سال ان کی وردی کے احترام میں سر جھکائے کھڑا رہا۔

جب جنرل باجوہ ریٹائر ہوں گے تو کیا اس زبردست چائے کا نسخہ اپنے ساتھ لے جائیں گے؟ریٹائرمنٹ کے دن جنرل قمر باجوہ کو ایک شاندار پریڈ کروانی چاہیے، گارڈ آف آنر کا معائنہ کرنا چاہیے اور پھر ایک پُر وقار تقریب میں اپنا سپہ سالار والا ڈنڈا اپنے جانشین کے حوالے کرنا چاہیے اس یقین کے ساتھ کہ یہ ڈنڈا ایسے ہی چلتا رہے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}