سات دن میں تین لاکھ سے زیادہ چوہے کیسے مارے؟

سات دن میں تین لاکھ سے زیادہ چوہے کیسے مارے؟

March 24, 2018 - 00:40
Posted in:

انڈیا کی سیاسی جماعت بی جے پی کے سینئر رہنما اور مہاراشٹرا کے سابق وزیر ایکناتھ کھڈسے نے مطالبہ کیا ہے کہ یہ تحقیقات کروائی جائیں کہ انتظامی امور کے ہیڈکوارٹر کی عمارت میں کس معاہدے کے تحت چوہوں کو مارا کیا گیا تھا۔ پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق اسمبلی میں خطاب کے دوران بی جے پی کے رہنما کا کہنا تھا کہ ایک کمپنی جسے تین لاکھ 19 ہزار چار سو چوہے مارنے کا کام سونپا گیا تھا کیسے سات دن کے اندر انھیں مار سکتی ہے۔ بجٹ سے متعلق مطالبات پر بحث کے دوران انھوں نے کہا کہ بریہان ممبئی میونسپل کارپوریشن، بی ایم سی نے چھ لاکھ چوہوں کو مارنے میں دو سال لگائے تھے۔ مزید پڑھیے’بہار کے سیلاب کی اصل وجہ چوہے ہیں‘چوہوں نے صدر کو دفتر سے بےدخل کر دیاخیال رہے منتریالا میں چوہوں کی حالیہ تعداد کا اندازہ ایک سروے میں لگایا گیا ہے۔ ان چوہوں کو ختم کرنے کے لیے انتظامی محکمے کی جانب سے حکم جاری کیا گیا تھا اور متعلقہ کمپنی کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا تھا تاہم اس نے سات دن بعد ہی چوہوں کو مارنے کا دعویٰ کر لیا۔ سابق وزیر ایکناتھ کھڈسے نے پرمزاح انداز میں کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک دن میں 45 ہزار 628.57 چوہے مارے گئے۔ اور وہ 57 . 0 نئے پیدا ہونے والے چوہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہر ایک منٹ میں 31.68 چوہوں کو مارا گیا۔ ان چوہوں کا وزن 9,125.71 کلوگرام بتایا گیا تھا جنھیں منترالیا سے باہر منتقل کرنے کے لیے ہر روز ایک ٹرک کی ضرورت تھی۔

لیکن سابق وزیر نے ساتھ ہی یہ بھی نکتہ اٹھایا کہ معلوم نہیں کہ ان چوہوں کو کس جگہ ٹھکانے لگایا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ حکومت فرم کو ٹھیکہ دینے کے بجائے 10 بلیوں کے ذمے یہ کام لگا سکتی تھی۔ انھوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا متعلقہ کمپنی کے پاس زہر استعمال کرنے کی اجازت ہے۔ اسی کمپنی کے حوالے سے سابق وزیر نے یہ الزام بھی لگایا کہ اس کے سٹاک میں موجود زہر کو ایک کسان دھرما پٹیل نے فروری میں کھا کر خودکشی کی تھی۔ ان کی جانب سے انکوائری کے مطالبے کے بعد حکومتی وزیر مدن یراور نے کہا کہ کمپنی کو دیے جانے والے ٹینڈر کی تفصیلات سات دن کے اندر ایوان میں پیش کی جائیں گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}