زینب کیس: ’چالان کے لیے 90 دن کا وقت نہیں دیا جا سکتا‘

زینب کیس: ’چالان کے لیے 90 دن کا وقت نہیں دیا جا سکتا‘

January 28, 2018 - 12:11
Posted in:

پاکستان کی سپریم کورٹ میں زینب قتل کیس ازخود نوٹس کی سماعت جاری ہے۔ سپریم کورٹ کی رجسٹری لاہور میں اتوار کی صبح ہونے والی سماعت میں ملک کے ٹی وی چینلز سے منسلک سینیئر اینکر پرسنز اور اخباروں کے مالکان سمیت 12 سینیئر صحافی موجود ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق عدالت نے اس کیس کی تفتیشی ٹیم کو حکم دیا ہے کہ وہ جلد از جلد چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کرے۔ ’پولیس کو چالان پیش کرنے کے لیے 90 دن کا وقت نہیں دے سکتے۔‘اینکر پرسن شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ عمران علی کے پاکستان میں 37 بینک اکاؤنٹس ہیں۔ جس پر چنف جسٹس آف پاکستان نے از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ زینب قتل کیس کے پیچھے ایک منظم جرائم پیشہ گروہ ہے جس کی پشت پناہی ایک وزیر بھی کر رہے ہیں۔سٹیٹ بینک کی جانب سے ملزم کے اکاؤنٹس کی اطلاع کی تردید کے بعد سپریم کورٹ نے تجزیہ نگار شاہد مسعود کے الزامات کے لیے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔ عدالت نے پیشی کے موقع پر شاہد مسعود پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے مقتولہ زینب کے والد کو کسی بھی قسم کی پریس کانفرنس سے روک دیا ہے۔ خیال رہے کہ صحافتی اداروں سے منسلک سینیئر شخصیات کو تجزیہ نگار شاہد مسعود کے اس دعوے کے غلط ثابت ہونے کے بعد بلوایا گیا تھا بعد میں پنجاب کی حکومت نے جمعرات کو اس بارے میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی جس نے شاہد مسعود کو جمعے کو دو بار طلب کیا تھا تاہم وہ اس کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔مزید پڑھیےکیا محلے دار ملزم کے بارے میں جانتے تھے؟ڈی این اے نے ملزم تو پکڑوا دیا، سزا دلوا پائے گاڈی این اے فنگر پرنٹنگ کیا ہے؟قصور ریپ کیسز: عائشہ سے زینب تکجمعے کو لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملک احمد خان نے کہا ہے کہ اینکر پرسن نے تحقیقات کے بارے میں غلط خبر دے کر تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش کی اور ان کے لگائے گئے الزامات 'من گھڑت اور بے بنیاد' تھے۔ان کا کہنا تھا کہ چونکہ سپریم کورٹ اس معاملے پر از خود نوٹس لے چکی ہے اسی لیے اب وہی اس حوالے سے فیصلہ کریں گے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو شاہد مسعود نے عدالت کو بتایا تھا کہ ملزم عمران کا تعلق ایک بین الاقوامی گروہ سے ہے جو فحش فلمیں بناتا ہے۔ اُنھوں نے عدالت میں غیر ملکی بینکوں میں 37 اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی پیش کی تھیں جو ان کے بقول ملزم عمران علی کے ہیں۔سماعت کے دوران اس پروگرام کے میزبان نے عدالت کو بتایا کہ ایک وفاقی وزیر کا بھی ملزم کے ساتھ تعلق ہے۔ جب عدالت نے شاہد مسعود سے اس وفاقی وزیر کا نام پوچھا تو اُنھوں نے کہا کہ وہ کھلی عدالت میں ان کا نام نہیں بتا سکتے تاہم شاہد مسعود نے ایک پرچی پر اس وفاقی وزیر کا نام لکھ کر چیف جسٹس کو پیش کیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}