زنان نامدار: تہران میں خواتین کو خراج تحسین

زنان نامدار: تہران میں خواتین کو خراج تحسین

March 16, 2018 - 16:26
Posted in:

مزاحمت کی علامت بن جانے والی خاتونایران میں زمبا رقص پر پابندی کے مطالبے پر تنقیدیہ مہم اصلاحات پسند سیاسی جماعت کے ممبر کے شہر کا میئر بننے کے بعد شروع کی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پر اس مہم کو پسند کیا گیا ہے لیکن ساتھ تجویز بھی دی گئی ہے کہ صرف بل بورڈز ہی کافی نہیں ہیں بلکہ خواتین کے حقوق کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ بل بورڈز پر خواتین کون ہیں؟جن خواتین کی تصاویر کو بل بورڈز پر آویزاں کیا گیا ہے ان میں دانشور، فنکار، ایتھلیٹس اور سائنسدان شامل ہیں۔ کچھ تصاویر میں خواتین نے حجاب نہیں کیا ہوا۔ اس مہم میں چند خواتین یہ ہیں: کیمیا علیزادهکیمیا ایران کی پہلی خاتون ہیں جنھوں نے اولمپک میڈل جیتا۔ انھوں نے 2016 کی سرمائی اولمپکس گیمز میں 57 کلو گرام تائی کوانڈو میں میں کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

شہلا ریاہیشہلا ایران کی پہلی خاتون فلم ہدایتکار ہیں اور وہ ہدایتکاری سے قبل خود بھی فلموں میں کام کیا کرتی تھیں۔

مریم کاظمزادہمریم ایران کی پہلی جنگی فوٹوگرافر ہیں۔ انھوں نے سنہ 1980 کی دہائی میں ایران، عراق جنگ کو کیمرے کی نظر سے دنیا کے سامنے پیش کیا۔

مرضیہ حدیدچیمرضیہ پاسداران انقلاب کی پہلی خاتون کمانڈر تھیں۔ انھوں نے خواتین کے حقوق کے لیے کام کیا اور بعد میں پارلیمنٹ کی رکن بھی بنیں۔

نصرت امیننصرت جدید ایران میں پہلی خاتون مذہبی عالم یا مجتہد ہیں۔

آلنوش طریانآلنوش ماہر طبیعیات تھیں اور ان کو جدید ایران کی مادرِ نجوم کہا جاتا ہے۔ ان کا انتقال 2011 میں ہوا۔

مریم عمید سمنیانیمریم پہلی خاتون صحافی تھیں جنھوں نے سنہ 1913 میں خواتین کا بااثر اخبار بلاسم نکالا تھا۔

مریم میرزا خانی مریم 2014 میں پہلی ریاضی دان بنیں جن کو فیلڈز میڈل دیا گیا۔ فیلڈز میڈل ریاضی میں نوبیل انعام کے برابر ہے۔ ان کا 40 سال کی عمر میں 2017 میں انتقال ہوا۔

تہران سے ممبر پارلیمنٹ فاطمہ سعیدی نے اس مہم کو ’اچھا اقدام‘ قرار دیا۔ ان کے اس تبصرے پر ایک سوشل میڈیا صارف نے جواب دیتے ہوئے لکھا ’اس بارے میں خوش نہ ہوں۔ یہ صرف پبلسٹی ہے۔‘کئی سوشل میڈیا صارفین نے اس مہم کی حمایت کی اور لکھا کہ اس سے خواتین کی عزت نفس اور خود اعتمادی میں اضافہ ہو گا۔ ہمیں اسی قسم کی مہم دیگر شہروں میں بھی چلانے کی ضرورت ہے۔‘تاہم چند صارفین کے مطابق مریم میرزاخانی نے امریکہ کی سٹینفرڈ یونیورسٹی میں اپنا نام بنایا۔ ان کے حوالے سے چند صارفین نے لکھا کہ وہ ایران چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ ایک صارف نے جواب میں لکھا: ’ان کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا اور صرف وہ ہی نہیں بلکہ سینکڑوں دانشمند افراد کو بھی ملک چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔ اگر وہ واپس آتیں تو ان کو پڑھانے کی اجازت نہیں ملتی کیونکہ وہ حجاب نہیں کرتی تھیں۔‘۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}