زرداری کا جیل سے رومانس

زرداری کا جیل سے رومانس

June 12, 2019 - 12:13
Posted in:

آصف علی زرداری عدالتی حکم پر ایک بار پھر جیل جا پہنچے ہیں جیل ان کے لئے نئی تو نہیں البتہ اس بار وہ 15 برس کی طویل آزادی گزار کر جیل گئے ہیں۔اس 15 برس کے وقفے میں وہ پانچ برس صدر پاکستان بھی رہے، یوں شاید یہ پندرہ برس ان کی سیاسی زندگی میں آزادی کے وہ سال تھے جن میں انھوں نے بھرپور کوشش کہ وہ مقتدر قوتوں سے بنا کر رکھیں۔انھوں نے اپنے سیاسی مخالفوں سے لڑائی بھی حد سے نہ بڑھائی۔ اس سارے عرصے میں وہ پر امن بقائے باہمی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور شاید اس سارے عمل میں کہیں نفسیاتی خوف بھی تھا کہ ان کی جماعت اور ان کے خاندان کو اب دوبارہ جیل نہ جانا پڑے اور نہ ہی مزید قربانیاں دینی پڑیں۔مگر ہونی ہو کر رہتی ہے۔ ان کی سب تدبیریں ناکام رہیں اور ایک بار پھر سے وہ جیل میں ہیں۔یہ بھی پڑھیے!پاکستانی سیاست اور شاہی دورہمریم جی کی واپسی!ضمانت کی سیاست اور سال 2019 میجر جنرل آصف غفور اور مہاتما گاندھی آصف زرداری بنیادی طور پر عملیت پسند ہیں۔ بطور صحافی گذشتہ 31 سال میں ان سے بالمشافہ ملاقاتوں، گفتگو اور انٹرویوز کا موقع ملتا رہا ہے۔میرا مشاہدہ یہی ہے کہ اس تمام تر عملیت پسندی کے باوجود ان کے اندر کہیں مثالیت پسند جراثیم بھی موجود ہیں۔ ایک ملاقات میں مجھے ان کے والد حاکم علی زرداری نے اپنی پسندیدہ ترین شخصیت مولانا حسرت موہانی کو قرار دیا تھا اور یہ بھی بتایا تھا کہ انھوں نے حسرت موہانی کو نواب شاہ میں مدعو کیا تھا۔حسرت موہانی مسلم لیگی تھے مگرانقلاب زندہ باد یعنی مکمل آزادی کا نعرہ لگانے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ جیل ان کا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔ جیل سے ان کے تعلق کے حوالے سے ان کا یہ شعر مشہور ہے:ہے مشق سخن جاری اور چکی کی مشقت بھیاک طرفہ تماشا ہےحسرت کی طبیعت بھی

آصف زرداری عوام کی نظر میں ایک اصلی مزاحمت پسند اور مثالیت پرست ہوتے ہوئے وہ مرد حر کا خطاب تو پا چکے، مرد جمہور کا خطاب بھی پا لیتے مگر صد افسوس کہ ان کے بارے میں کرپشن کا تاثر اسی طرح برقرار ہے۔ میگا منی لانڈرنگ ہو ہا سوئس اکاؤنٹس یا سرے محل کا معاملہ، ان کے حوالے کبھی ایسا دفاع سامنے نہیں آیا جو انھیں الزامات سے پاک صاف کر دے۔ طویل جیلیں اپنی جگہ مگر کرپشن کے داغ انھیں عظمت کے تخت پر سرفراز نہیں ہونے دیتے۔کاش بلاول بھٹو زرداری ہی اس حوالے سے سامنے آئیں اور کرپشن سے پاک ایسا بیانیہ سامنے لائیں جو پیپلز پارٹی کی بے داغ مزاحمتی سیاست کو پھر سے زندہ کر دے۔مجھے 31 برس میں زرداری صاحب سے پہلی ملاقات بھی یاد ہے جو جہانگیر بدر کے ہمراہ ایک سیالکوٹی ٹھیکے دار کے کراچی بنگلے میں ہوئی تھی۔ وہ اس وقت کھلنڈرے نوجوان تھے اسی طرح آج سے صرف ایک ماہ میں ہونے والی آخری ملاقات بھی یاد آرہی ہے جس میں وہ بوڑھے اور تھکے تھکے نظر آئے۔ زرداری صاحب کو تین دہائیوں سے جاننے کے بعد یہ بات بآسانی کہی جا سکتی ہے۔ آصف زرادی جیل ایک مثالیت پرست کی طرح بہادری سے کاٹیں گے۔ حاکم زرداری نے اپنے اکلوتے بیٹے کو بکریاں چرانے سے لے کر اونٹوں پر سفر کے ساتھ زمینداری سنبھالنا بھی سیکھایا ہے۔جب وہ اپنے بیٹے کو یہ سب سیکھا رہے تھے تو لازماً حسرت موہانی جیسی مثالیت پسندی کی تربیت بھی دی ہو گی۔ ساتھ ہی ساتھ آصف زرداری نے کامیاب بزنس مین والد ہی سے عملیت پسندی کے اسباق بھی لئے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ آصف زرداری جیل میں مزاحمت کی سیاست کریں گے مگر ملک میں عملیت کی سیاست جاری رکھیں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}