ذہنی دباؤ سے موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

ذہنی دباؤ سے موٹاپا کیوں ہوتا ہے؟

January 25, 2018 - 05:56
Posted in:

ہم سبھی یہ بات جانتے ہیں کہ وزن کیسے بڑھتا ہے۔ جب ہم جتنی کیلوریز ہمیں چاہیے اس سے زیادہ کیلوری کھانے لگتے ہیں تو وزن بڑھنے لگتا ہے۔ لیکن ہم ضرورت سے زیادہ کھانا کیوں شروع کر دیتے ہیں؟کیوں کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ اچانک چاکلیٹ یا کیک جیسی بہت زیادہ کیلوری والی چیزیں کھانے کی شدید طلب محسوس ہوتی ہے حالانکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر بعد ہمیں پچھتاوا ہوگا؟صرف لالچ یا کچھ اور وجہ؟خود پر قابو رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن سائنسدانوں کو اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ ذہنی دباؤ موٹاپے کی ایک اہم وجہ ہوتا ہے۔زیادہ ذہنی دباؤ کی حالت میں ہماری نیند خراب ہوتی ہے اور خون میں شوگر کی مقدار بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس وجہ سے ہمیں زیادہ بھوک لگتی ہے اور کچھ کھا کر ہی آرام ملتا ہے۔یہ بھی پڑھیےبرطانیہ موٹاپے کا شکار ملک کیا خیالی پلاؤ پکانا صحت کے لیے مفید ہے؟’صحت مند موٹے‘ بھی خطرے کی زد میں اس سے ذہنی دباؤ اور بھی بڑھنے لگتا ہے۔ نیند اور بھی خراب ہوتی ہے اور خون میں شوگر لیویل اور بھی بری طرح متاثر ہونے لگتا ہے۔ جسم میں چربی بڑھنے لگتی ہے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔کیسے کیا گیا ٹیسٹتحقیقی گروپ ’ٹرسٹ می آئی ایم اے ڈاکٹر‘ کی ٹیم کے ڈاکٹر گائلز ییو نے برطانیہ کی لیڈز یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی مدد سے ایک پورا دن بے حد تناؤ بھرے ماحول میں ذہنی دباؤ میں گزارا۔اس کے بعد ان کا ’ماسٹرٹ سٹریس ٹیسٹ‘ کیا گیا۔انھیں ایک کمپیوٹر کے سامنے بٹھا کر جلدی جلدی حساب کرنے کو کہا گیا۔ وہ حساب میں غلطیاں کرتے گئے۔ اس کے بعد ان سے کہا گیا کہ وہ اپنا ہاتھ بٹھنڈے پانی میں ڈال کر رکھیں۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے اس ٹیسٹ کے پہلے اور بعد میں گائلز کے خون میں شوگر کا لیویل معلوم کیا۔ یہ بھی پڑھیے نطفوں کی کمی سے ’انسان کی معدومیت کا خطرہ‘ صحت مند اور طفیلی جڑواں کے جسم الگ، آپریشن کامیاب کیا فحش فلمیں صحت کے لیے مضر ہیںہمارے خون میں شوگر کی سطح تب بڑھتی ہے جب ہم کچھ کھاتے ہیں۔ ایک صحت مند شخص میں شوگر کی سطح جلد ہی نارمل ہو جاتی ہے۔ لیکن سائنسدانوں نے دیکھا کہ ذہنی دباؤ والے دنوں میں گائلز کے خون میں شوگر کی سطح کو معیار پر لوٹنے میں تین گھنٹے لگ گئے۔ یعنی عام دن کے مقابلے میں چھ گنا زیادہ وقت لگا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ ذہنی دباؤ میں ہوتے ہیں تو آپ کا جسم سمجھتا ہے کہ اس پر باہر سے کوئی حملہ ہوا ہے۔ اس لیے جسم عضلات کو طاقت دینے کے لیے خون میں زیادہ گلوکوز خارج کرنے لگتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق حقیقی خوشی اچھی دماغی صحت سے ملتی ہےایک اور ضروری بات یہ کہ اپنی نیند کو کسی بھی حالت میں متاثر نہ ہونے دیجیے۔ حالانکہ یہ کہنا آسان ہے کرنا نہیں۔ کچھ اور ایسے طریقے ہیں جن سے آپ ذہنی دباؤ کو خود سے دور رکھ سکتے ہیں جیسے ورزش، باغبانی یا یوگا۔لیکن آپ کے لیے کیا مدد گار ثابت ہوگا یہ تو آپ کو کر کے ہی دیکھنا ہوگا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}