'دیامر بھاشا ڈیم کے لیے بزرگوں کی ہڈیاں تک قربان کر دیں'

'دیامر بھاشا ڈیم کے لیے بزرگوں کی ہڈیاں تک قربان کر دیں'

October 02, 2018 - 07:19
Posted in:

'دیامر بھاشا ڈیم میں لوگوں نے ایک دو دن کی تنخواہ عطیے میں دی ہے، لیکن ہم نے اپنے بزرگوں کی ہڈیاں تک قربان کر دی ہیں۔' یہ خیالات تھے سفید ریش عظیم اللہ کے جو ڈیم بننے سے بہت پہلے ہی اپنے علاقے سے دربدر ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں اور چند برسوں کے اندر اندر ان کے گاؤں موہنجوداڑو اور ہڑپہ کا منظر پیش کرنے لگے ہیں۔عظیم اللہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کی وادیِ کھنبری کے رہنے والے ہیں۔ وہ کانوں سے اونچا سنتے ہیں، اس لیے خود بھی زور سے بولتے ہیں۔ابھی ڈیم بننے میں بہت وقت باقی ہے۔ اس کے لیے درکار لاگت کے چندے جمع کیے جا رہے ہیں اور فی الحال یہ واضح نہیں کہ رقم کہاں سے پوری ہو گی مگر عظیم اللہ اور ان کی برادری کے سینکڑوں لوگ ابھی سے بےگھر ہو گئے ہیں۔

لیکن تمام تر مصائب کے باوجود بزرگ عظیم اللہ کو احساس ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم ملک کے لیے کتنا ضروری ہے۔ وہ کہتےہیں: 'اس علاقے کا ایک گلاس پانی مجھے پنجاب کے تمام دریاؤں سے زیادہ عزیز ہے۔ لیکن ہم نے سوچا کہ بجلی آئے گی، اس ڈیم کی وجہ سے پورا علاقہ روشن ہو گا، کارخانے لگیں گے، روزگار ملے گا۔ ترقی ہو گی، پاکستان کو فائدہ ہو گا تو اسی میں ہمارا فائدہ ہے۔ اس لیے ہم نے خوشی خوشی سب کچھ قربان کر دیا۔ہم نے چلاس کے قریب ہرپن داس کے مقام پر وہ ماڈل ولیج بھی جا کر دیکھا جہاں ان لوگوں کو آباد کیا جانا تھا۔ وہاں پر ایماں کی حرارت والوں نے وہاں راتوں رات ایک سفید گنبد والی مسجد بنا دی ہے، باقی اللہ ہی اللہ ہے۔دیامر کے سونے وال قبائل، جو صدیوں سے دریائے سندھ کے مٹیالے پانی کو چھان کر اس سے سونے کے ذرے تلاش کیا کرتے تھے، ان کا کہنا ہے کہ دیامر بھاشا ڈیم بننے کے بعد ملک میں ہن تو جب برسے گا، تب برسے گا، ان کی زندگیاں ابھی سے کنکر پتھر بن کر رہ گئی ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}