دس ممالک جہاں لڑکیوں کا سکول جانا مشکل

دس ممالک جہاں لڑکیوں کا سکول جانا مشکل

October 11, 2017 - 16:00
Posted in:

امیر ممالک میں سکولوں کے حوالے سے بحث کے موضوعات میں اہم ہوتا ہے کہ کس مضمون کو زیادہ اہمیت دی جائے، کس میں طلبا کو زیادہ مدد کی ضرورت ہے اور کس میں زیادہ وسائل لگانے چاہیئں۔ لیکن ترقی پذیر ممالک میں سوال انتہائی بنیادی ہوجاتا ہے کہ کیا بچوں کو سکولوں تک رسائی بھی حاصل ہے یا نہیں۔ لڑکیوں میں باصلاحیت ہونے کا یقین کماقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک دہائی میں دنیا کے غریب ترین ممالک میں سکولوں کی کمی کے مسئلے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ایک دوسری رپورٹ میں معیارِ تعلیم کے بارے میں بتایا گیا کہ 60 کروڑ بچے سکول تو جاتے ہیں لیکن وہاں کچھ سیکھتے نہیں۔

چاڈاس افریقی ملک میں لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں متعدد معاشی اور معاشرتی رکاوٹیں حائل ہیں مالی صرف 38 فیصد لڑکیوں نے پرائمری تک تعلیم مکمل کی۔ گنی گنی میں 25 سال سے زائد عمر کی خواتین اوسطاً ایک برس تک تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ برکینا فاسو صرف ایک فیصد لرکیوں نے سیکنڈری تک تعلیم مکمل کی۔ لائبیریا پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے کی عمر کے دو تہائی بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ایتھیوپیا ہر پانچ میں سے دو لڑکیوں کی شادی 18 سال سے کم کی عمر میں کر دی گئیگ اساتذہ کی کمی تمام غریب ممالک میں عام ہے۔ گذشتہ برس اقوامِ متحدہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھی میں تعلیم کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے کم سے کم چھ کروڑ 90 لاکھ اساتذہ بھرتی کیے جانے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر لڑکیوں کو بھی تعلیم فراہم کی جائے تو اس کے اقتصادی فوائد حاصل ہوں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}