دس سال میں ملکی قرض بڑھنے کی وجوہات جاننے کے لیے کمیشن

دس سال میں ملکی قرض بڑھنے کی وجوہات جاننے کے لیے کمیشن

June 12, 2019 - 01:40
Posted in:

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے سنہ 2008 سے سنہ 2018 کے دوران ملکی قرضوں میں اضافے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔ منگل کی شب قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انھوں نے اپنی حکومت کے ساڑھے نو ماہ کے دوران پریشر کا سامنا کیا لیکن اب وہ ختم ہو گیا ہے۔ انھوں نے آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے ادوار میں ہونے والی مبینہ کرپشن کا پتہ لگانے کے لیے اپنی نگرانی میں اعلی سطحی کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اس میں ایف آئی اے، ایف بی آر، ایس ای سی پی ، آئی ایس آئی اور آئی بی ہو گی سارے حکومتی ادارے تحقیقات کریں گے کہ کیسے اس ملک کو اس دلدل میں کیسے پھنسایا ہے اور ہم اسے نکال رہے ہیں۔ ’میں اب ان سے جواب مانگنے لگا ہو۔ جس پریشر اور مشکل سے گزرے ہیں۔ اب میں نے ان کے پیچھے جانا ہے۔ میں ایک ہائی پاور انکوائری کمیشن بنانے لگا ہوں۔ جس کا ایک ون پوائنٹ ایجنڈا ہے کہ کیسے 10سالوں میں انھوں نے اس ملک پر 24 ہزار ارب روپے قرضہ کیسے چڑھایا؟‘ مزید پڑھیے آصف زرداری 10 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالےسابق وزیر اعظم نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل واپسیخیال رہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی گرفتاری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تبدیلی ہے کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ بڑے بڑے برج جیلوں میں ہوں گے۔ انھوں نے بتایا کہ آصف علی زرداری اور نواز شریف کے دور اقتدار کے دس سالوں میں ملک کے قرضہ جات میں 24 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ ’ہمارا بیرون ملک قرضہ مشرف کے دور میں 39 سے 41 ارب بڑھا ان دونوں کے دور میں 41 ارب ڈالر سے 97 ارب تک۔‘

’میں نے کیا ان کا بگاڑا تھا۔ نیب کے کیسز میں ے تو نہیں کیے یہ تو پہلے کے تھے۔ سنہ 2016 میں اس وقت کے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ آیان علی کے بھی اسی جعلی اکاونٹ سے پیسے جا رہے ہیں جس سے بلاول بھٹو کو جا رہے ہیں۔ نواز شریف کے باناما کے کسیز شہباز شریف کے کیسز پہلے کے تھے۔ نہ انھوں نے نہیں بولنے دیا میں جب بھی اسمبلی میں جاتا ہوں بدتمیزی کرتے ہیں شور مچاتے ہیں۔ میری غلطی یہ ہے کہ میں ان کی بلیک میلنگ اور پریشر میں آکر جو یہ چاہتے ہیں میں وہ این آر او نہیں نہیں دے رہا۔ ‘انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انھوں نے اپوزیشن کے نام پیغام میں کہا کہ وہ کسی اور کو بلیک میل کریں۔ ’میرا جو مرضی کرنا ہے کرلیں۔ ایک ایک ایک کو جس جس نے اس ملک کو نقصان پہنچایا ان کو نہیں چھوڑوں گا۔ ‘ عمران خان نے مشکل معاشی صورتحال میں دوست ملکوں چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی جانب سے دی جانے والی مدد کا حوالا دیا اور کہا کہ میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے مشکل وقت میں مدد کی۔ بجٹ کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کمزور طبقے کے لیے پانچ ارب روپے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنا سارا خرچ خود کرتے ہیں سوائے سکیورٹی کے۔ وزیراعظم نے پاکستانی افواج کی جانب سے بجٹ میں اضافہ نہ لینے کا خیرمقدم کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ 50 ارب اپنے خرچوں سے کم کیا ہے اور کابینہ کی دس فیصد تنخواہیں کم کروائی ہیں۔ قوم کے نام پیغام میں انھوں نے کہا کہ یہ ہمارا مشکل سال ہے یہ چند مہینے مشکل ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}