خون کے دھبے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

خون کے دھبے دُھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

April 23, 2019 - 10:54
Posted in:

13 اپریل کو جلیانوالہ باغ کے سانحے کو سو سال پورے ہونے پر پاکستان اور انڈیا سمیت دنیا بھر میں اس ہولناک واقعے کو یاد کیا گیا۔ برطانیہ سے ایک مرتبہ پھر معافی مانگنے کا مطالبہ سامنے آیا اور جنرل ڈائر کے اس اقدام پر کڑی تنقید بھی ہوئی لیکن جہاں لوگ سامراجی اکڑ سے جنرل ڈائر کا نام جوڑتے ہیں، سر اوبرے میٹکاف کا نام کتنوں کو یاد ہے؟جلیانوالہ باغ کے قتلِ عام کے بعد جنرل ڈائر کو تو زبردستی ریٹائر کروا کے خاموشی کی زندگی گزارنے واپس برطانیہ بھجوا دیا گیا تھا لیکن جلیانوالہ کے اس واقعے کے 11 سال بعد پشاور کے قصہ خوانی بازار میں درجنوں غیر مسلح افراد کا قتلِ عام کروانے والے میٹکاف نہ صرف اس سانحے کے بعد برطانوی راج کے لیے کام کرتے رہے بلکہ 1939 میں بلوچستان کے چیف کمشنر بھی مقرر ہوئے اور ’سر‘ سمیت کئی خطابات سے بھی نوازے گئے۔یہ بھی پڑھیےتقسیم ہند میں غفار خان کا کردار ؟ جلیانوالہ باغ: برطانیہ سے معافی کا مطالبہجلیانوالہ قتلِ عام: جب ہرا بھرا باغ خون سے لال ہواہوا کچھ یوں تھا کہ 23 اپریل 1930 کو پختون قوم پرست، امن کا پرچار کرنے والے اور انگریزوں کی حکومت سے آزادی کے کارکن خان عبدالغفار خان کو انگریز حکمرانوں نے حراست میں لیا۔ غفار خان، جن کو باچا خان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس واقعے سے ایک ماہ پہلے ہی ان کی قیادت میں خدائی خدمت گار نامی تنظیم کا قیام عمل میں آیا تھا۔خدائی خدمت گار کے کارکنان پشاور کے قصہ خوانی بازار میں جمع اپنے قائد کا انتظار کر رہے تھے۔ باچا خان کی گرفتاری کا سنتے ہی تمام صوبے میں احتجاج کی لہر دوڑی اور ان کے حمایتی اکٹھے ہونا شروع ہوئے۔ پشاور کے ڈپٹی کمشنر کی حیثیت سے میٹکاف نے مظاہرین کو منتشر ہونے کا حکم دیا، لیکن کسی نے ان کی ایک نہ سنی۔ بڑھتے ہجوم کے پیش نظر میٹکاف نے بکتربند گاڑیاں بلوا لیں، جن میں سے ایک نے اپنے راستے میں 14 لوگوں کو کچل دیا۔ اس پر ہجوم نے گاڑی کو آگ لگا دی اور اس وقت اس کے اندر انگریز عملہ موجود تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’دنیا کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ انسانیت کے خلاف جرائم ناقابلِ برداشت ہیں اور یہ عہد کرنا ہو گا کہ ان کو کبھی دہرایا نہیں جائے گا۔‘عائشہ جلال کا ماننا ہے کہ سامراجی تاریخ میں اس طرح کے واقعات کو بھلا دینا معمول کی بات ہے۔ ’یہ سانحہ انڈین آزادی کی جدوجہد میں اہم اور پختون قوم پرستی کی تاریخ میں فیصلہ کُن تھا۔ لیکن قصہ خوانی یا جلیانوالہ باغ جیسے واقعات کو عالمی سطح پر ویسی توجہ نہیں دی جاتی جیسی ان کو ملنی چاہیے۔‘تاہم افراسیاب خٹک کہتے ہیں کہ ’کچھ اقدامات انسانیت کو اپنا اخلاقی ریکارڈ درست کرنے کے لیے لینے پڑتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نہ صرف برطانیہ کو بلکہ پاکستانی ریاست کو بھی ان ظالمانہ حرکات کی معافی مانگنی چاہیے۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}