خود اعتمادی کے لیے کیا خواتین خود کو بدل سکتی ہیں؟

خود اعتمادی کے لیے کیا خواتین خود کو بدل سکتی ہیں؟

October 07, 2017 - 19:49
Posted in:

ڈاکٹر سٹیسی گروسمین بلوم کی تین بیٹیاں ہیں۔ وہ نیویارک کے این وائی یو لینگون میڈیکل سینٹر میں نیورو سائنٹسٹ (علم الاعصاب کی ماہر) ہیں۔ڈاکٹر سٹیسی اس سال کے بی بی سی کے ’100 خواتین کے چیلنج‘ میں کہتی ہیں کہ انھیں اپنی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نیورو سائنس خود اعتمادی بڑھانے میں جادوئی کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کا مندرجہ ذیل مضمون اسی موضوع پر ہے۔100 ویمن: روایات تبدیل کرنے کے لیے آپ کے خیالاتبہت سی خواتین پُراعتماد ہونا چاہتی ہیں لیکن انھیں معلوم نہیں کہ اعتماد کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔ پھر بھی کامیابی کے لیے ہمیں اپنی صلاحتییوں اور اقدار کو تسلیم کرنے اور خود اپنی ذات کے احترام کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر خواتین کو ترقی ملنے، میٹنگوں میں بات کرنے اور قیادت کے منصب تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں۔ کئی تحقیقوں سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اگر کمپنیوں میں خواتین کو بااختیار عہدے ملتے ہیں تو وہ کمپنیاں کسی حد تک زیادہ منافع بخش ہوتی ہیں۔ خواتین کی وجہ سے مل جل کر کام کرنے کا ماحول پیدا ہوتا ہے اور مسائل کے حل کے زیادہ امکانات سامنے آتے ہیں۔اور تھوڑی مشق کرتے ہوئے اور نیورو سائنس کو استعمال کر کے ہم زیادہ بااعتماد ہو سکتے ہیں۔

سائنسی نقطۂ نگاہ سے دیکھیں تو خواتین ماحول اور ابتدائی زندگی میں ملنے والی توجہ، دونوں ہی کو قصور وار ٹھہرا سکتی ہیں کیونکہ اس ضمن میں مردوں کے مقابلے میں ان کے ساتھ زیادتی ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقیت ہے کہ خواتین مردوں کے برعکس مختلف ہارمون خارج کرتی ہیں جس کی وجہ سے ہمارا ردِ عمل ارد گرد کی ایک جیسی دنیا میں مختلف ہوتا ہے۔خواتین میں دوسروں کو خوش کرنے کی خواہش ہوتی ہے، ان میں قبولیت اور شمولیت اور تنازعات سے بچنے کی بھی خواہش ہوتی ہے۔ جس طرح ہم خواتین ذہنی دباؤ کے حالات میں ردِ عمل ظاہر کرتی ہیں وہ بھی مختلف ہوتا ہے۔مرد دباؤ میں زیادہ خطرہ مول لے سکتے ہیں لیکن خواتین یقینی کامیابی کی طرف دیکھتی ہیں اور دباؤ پر کنٹرول کے لیے دوسروں سے رابطے استوار کرتی ہیں۔لڑکے اور لڑکیاںجوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں تو لازمی نہیں کہ نوجوان خواتین کو خوداعتمادی کے حصول میں مدد ملے۔ لیکن اگر ہم ایسا کریں تو ہمیں نخریلی، مغرور وغیرہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ لیکن ان لفظوں کو کبھی مردوں سے نہیں جوڑا جاتا۔یہ ظاہر کرنے کے لیے کہ ہم حکمتِ عملی پر مبنی تجزیے نہیں کرتیں بلکہ بغیر سوچے سمجھے فیصلے کرتی ہیں، ہم 'خواتین کو ہونے والے الہام' جیسے مضر جملے سنتی ہیں، حالانکہ کئی مطالعوں میں ظاہر ہوا ہے کہ جہاں تک ڈیٹا سے کام لینے کا تعلق ہے مردوں اور خواتین میں فرق نہیں ہے۔ہماری ظاہری شکل و صورت پر نہ ختم ہونے والی توجہ ہمارے امیج کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور ہم میں سے بہت سوں کے لیے وقت کے ساتھ ساتھ صورتِ حال خراب ہوتی جاتی ہے۔یہ بات دستاویزی سند رکھتی ہے کہ ہم جس طرح اپنی لڑکیوں اور خواتین کی پرورش کرتے ہیں اس کا خود ان کے اپنے بارے میں تصور اور صلاحیتوں پر دیرپا اثر پڑتا ہے۔ منفی پیغامات ذات کے بارے میں شک پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ہم خود کو کم تر سمجھنے لگتی ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم میں نہ صرف ذہنی کمتری اور خود کو دھوکہ دیتے رہنے کا احساس پیدا ہو جاتا ہے بلکہ غلطیاں کرنے کا خوف اور یہ شک کہ ہم ٹھیک کام نہیں کر رہیں، بڑھ جاتا ہے۔ ساتھ ہی تکمیل کی ناقابلِ حصول تلاش شروع ہو جاتی ہے۔ اور جب ہم یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ ہمیں با اعتماد ہونا ہے تو ہم اس سب کو پیچھے چھوڑ دیتی ہیں۔بار بار مشقاس سے فرق نہیں پڑتا کہ آغاز میں آپ ذاتی تسلی کی کس سطح پر ہیں۔ پُر اعتماد رہنے کے لیے بار بار مشق پر آپ جتنا وقت صرف کریں گی اتنی ہی تیزی سے آپ کا ذہن بدلے گا اور اسی رفتار سے آپ اس پر قابو پا سکیں گی۔ابتدا میں یہ اہم ہے کہ ہم ایسے حالات اور لوگوں سے پرے رہیں جن کی وجہ سے ہم خود کو برا محسوس کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اعتماد حوصلہ افزائی والے ماحول میں پیدا ہوتا ہے۔ ماحول میں لوگ شامل ہوتے ہیں اور ساتھ ساتھ ہمارا گرد و نواح بھی اور وہ بھی جس پر ہماری توجہ مرکوز ہوتی ہے۔اختیار دینے والی چیزوں پر توجہ دینا فائدہ مند ہوتا ہے اور ایسے تصورات اور مواد سے بچ کے نکلنا بھی جو ہمارے اپنے بارے میں خرابی یا برائی کا احساس دلاتا ہے۔ہم جس طرح اپنے آپ کو لے کر چلتے ہیں وہ بھی ایک اہم چیز ہے۔ذہن میں کسی صورتِ حال کا تصور بھی مدد کر سکتا ہے، جیسے یہ تصور کرنا کہ آپ دوڑ جیت گئے ہیں، یا آپ نے تقریر کی ہے جسے بہت پذیرائی ملی ہے، کام میں مہارت، ڈگری کا حصول، ان سب کا تصور اعتماد سازی میں مدد گار ہو سکتا ہے۔ جیسے کوئی کوچ مقابلے سے پہلے ٹیم سے حوصلہ افزا باتیں کرتا ہے، ہم بھی اپنا اعتماد بڑھا سکتی ہیں۔یہ مشقیں خاص طور پر ہماری مجموعی صحت پر اچھا اثر ڈالتی ہیں اور دباؤ اور ڈیپریشن کو روکنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ ان سے ذہنی اور جسمانی صحت کو جِلا ملتی ہے۔جب ہم بااعمتاد ہوتے ہیں تو ہم اپنے ذہن کو اور اپنے آپ کو تبدیل کر رہے ہوتے ہیں اور شاید دنیا کو بھی۔ڈاکٹر سٹیسی گروسمین بلوم این وائی یو لینگون ہیلتھ میں پالیسی اور ایڈمنسٹریشن کے شعبے میں معاون نائب صدر اور نیورو سائنس اینڈ فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}