خادم رضوی کو گرفتار کرنے کاحکم ،تسلیم شدہ بد عنوان ہے،آئی ایس آئی کی عدالت عظمیٰ میں رپورٹ

خادم رضوی کو گرفتار کرنے کاحکم ،تسلیم شدہ بد عنوان ہے،آئی ایس آئی کی عدالت عظمیٰ میں رپورٹ

March 19, 2018 - 23:10
Posted in:

اسلام آباد(خبرایجنسیاں+مانیٹرنگ ڈیسک) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں تحریک لبیک کے رہنما خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج شاہ ارجمند نے کیس کی سماعت کی۔عدالت نے حکم کے باوجود حتمی چالان پیش نہ کرنے پرپولیس پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔عدالت نے خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری کا مفرور ملزم کا اسٹیٹس بھی برقرار رکھا ہے۔مزید برآں عدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ 4اپریل تک ملزمان کے خلاف مقدمے کا حتمی چالان جمع کرایا جائے۔دوسری جانب عدالت عظمیٰ میں بھی فیض آباد دھرنے سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ۔ دوران سماعت آئی ایس آئی کی 46 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی جس میں کہا گیا کہ خادم حسین رضوی تسلیم شدہ بدعنوان ہے، فیض آباد دھرنے کی مختلف سیاسی جماعتوں نے حمایت کی، حمایت کرنے والوں میں شیخ رشید، اعجاز الحق اور تحریک انصاف کا علماء ونگ بھی شامل ہے، آئی ایس آئی نے فیض آباد دھرنے پر طاقت کا استعمال نہ کرنے کی سفارش کی۔ عدالت نے آئی ایس آئی کی رپورٹ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غیرتسلی بخش اور نامکمل قرار دے دیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ آئی ایس آئی کو تومعلوم ہی نہیں کون کون ہے، اربوں کی جائداد کو آگ لگادی گئی، ملک کی سب سے بڑی ایجنسی کی معلومات جان کر مجھے تشویش ہے۔وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا کہ خادم حسین رضوی چندہ وصول کرتے ہیں، جسٹس قاضی فائزعیسٰی نے ریمارکس دیے کہ وزارت دفاع کی باتیں سن کراب میں ملک کے مستقبل کے لیے فکرمند ہوں، کیا کسی کوریاست پاکستان کاکوئی خیال ہے، وزارت دفاع بھی ہماری طرح عوام کوجوابدہ ہے، فاضل عدالت نے آئی بی کی جانب سے رپورٹ براہ راست عدالت میں جمع کروانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آئی بی کی رپورٹ میں کچھ خفیہ نہیں بس اخباری خبریں ہیں۔عدالت نے پیمرا کی جانب سے رپورٹ نہ آنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے 10 روز میں رپورٹ جمع کروانے کا حکم دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے اٹارنی جنرل آفس سے سوشل میڈیا پر انتہاپسندی روکنے کے حوالے سے اقدامات پر بھی رپورٹ طلب کرلی۔کیس کی سماعت اب 2ہفتوں کے لیے ملتوی کردی گئی ہے۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}