حلقہ بندیوں کے نقشے گوگل اور سروے آف پاکستان کے نقشوں سے مطابقت نہیں رکھتے ،ورکنگ گروپ قومی اسمبلی

حلقہ بندیوں کے نقشے گوگل اور سروے آف پاکستان کے نقشوں سے مطابقت نہیں رکھتے ،ورکنگ گروپ قومی اسمبلی

March 19, 2018 - 23:02
Posted in:

اسلام آباد(صباح نیوز‘آن لائن)قومی اسمبلی کے ورکنگ گروپ میں انکشاف ہوا ہے کہ حلقہ بندیوں کے نقشے گوگل اور سروے آف پاکستان کے نقشوں سے مطابقت نہیں رکھتے ۔ کنوینئر کمیٹی اور وزیر نجکاری دانیال عزیز نے واضح کیا ہے کہ معاملات کا نوٹس لیا جانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان نقشوں کے نتیجے میں 25-30سال کے لیے متعلقہ حلقوں پر ان کی چھاپ لگ جائے گی ۔ غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے درستگی کے لیے 4،5 حلقوں کا ماڈل بنایا جائے گا۔حلقہ بندیوں کے بارے میں 9رکنی کل جماعتی ورکنگ گروپ کا اجلاس کنوینئرکمیٹی ووزیرنجکاری دانیال عزیز کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس کے کمیٹی روم میں ہوا۔اجلاس میں کنونئرکمیٹی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کوئی پارلیمانی جماعت انتخابا ت میں تاخیر نہیں چاہتی یہ تاخیر کوئی اور چاہتے ہوں گے ،کمیشن کے حکام نے اعتراف کیا ہے کہ حلقہ بندیوں کے سلسلے میں بعض دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ دانیال عزیز کے استفسار پر حکام نے اعتراف کیا کہ متعلقہ کمیٹی کا قیام کا ذکرقانون میں نہیں ہے تاہم سہولت کار کے طور پر یہ کمیٹی بنائی گئی۔ کمیٹی کے اسٹاف کے2ارکان کی جانب سے کمیٹی کے کام کو پیشگی افشاکرنے پر ان دونوں ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے ۔ دانیال عزیز نے اس حوالے سے ایبٹ آباد،ٹانک،بنوں ،ڈیرہ اسماعیل خان، اٹک،جھنگ،بارکھان اور مردان کے حلقوں کے نقشوں اور حلقہ بندیوں کے کام میں بے ضابطگیوں کو حکام کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ نارتھ سے حلقہ بندی کے کام کو بھی کمیشن نے اپنی مرضی سے کیا اس کے لیے متعلقہ عالمی معیار اختیار کیا جانا ضروری تھا ۔طریقہ کار میں تضادات ہیں کسی ایک حلقے کو صوبائی اسمبلی کی3،3نشستیں مل گئیں ۔قومی اسمبلی کے کسی ایک حلقے کے لیے ایک ہی صوبائی نشست ملی ۔ کسی جگہ اضلاع کو یکجا کردیا گیا کسی علاقے کو توڑ دیا گیا اور حصے بخرے کرتے ہوئے بعض خلاف ضابطہ حلقہ بندیاں بنادی گئیں ۔ کئی روز سے ہر پہلو کا جائزہ لیا، باریک بینی سے نقشوں دستاویزات کو دیکھا میری تو آنکھیں باہر نکل آئیں۔وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز نے کہاہے کہ انتخابی حلق بندیوں کو جواز بناکر انتخابات کو التوا کا شکار ہونے نہیں دیا جائے گا وہ اور قوتیں ہیں جو انتخا بات کو التوا میں ڈال سکتی ہیں ، الیکشن کمیشن نے انتخابی حلقہ بندیوں کے لیے بنائے گئے اپنے قوانین پر عمل درآمد نہیں کیا ہے اورمخصوص مفادات کے تحت بعض حلقوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ،قومی اسمبلی کے حلقوں میں بہت زیادہ فرق سے بہتر ہوتا کہ ایک ہی صوبے کے اندر اضلاع کی حدود توڑ دی جائیں، حتمی سفارشات تیار کر کے خصوصی کمیٹی میں پیش کریں گے۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}