'جیل میں مجھ سے دوسروں کی لاشیں دفن کروائی گئیں‘

'جیل میں مجھ سے دوسروں کی لاشیں دفن کروائی گئیں‘

January 03, 2018 - 18:43
Posted in:

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول سے دو گھنٹے کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا شہر ہے جس پر برف کی چادر پھیلی ہوئی ہے۔یہاں اب درجہ حرارت منفی 10 ڈگری تک پہنچ چکا ہے اور سڑکوں پر بمشکل کوئی نظر آتا ہے۔ہمارا سفر ایک تہہ خانے نما کمرے والے اپارٹمنٹ میں ختم ہوتا ہے۔ دروازے پر لگی گھنٹی کا جواب ایک 48 سالہ خاتون نے دیا اور ڈرتے ہوئے ہمارے شناختی کارڈ دیکھے۔یہ بھی پڑھیے٭ شمالی کوریا میں امریکی شہری زیرِ حراست٭ ’شمالی کوریا سے بھاگنے والے فوجی کے پیٹ میں بہت کیڑے ہیں‘بیٹھنے کے لیے زمین پر بستر بچھا ہوا تھا۔ کمرے میں باورچی خانہ بھی ہے اور باتھ روم کا دروازہ بھی وہیں کھلتا ہے۔می ریونگ (فرضی نام) 15 سال قبل شمالی کوریا میں ایک پلاسٹک فیکٹری کی سربراہ تھیں۔ ان کی بہن کے اہل خانہ بھاگ کر جنوبی کوریا پہنچے اور ٹی وی پر انٹرویو دیا، جس کے رد عمل کی زد میں شمالی کوریا میں ان کا خاندان آ گيا۔ ان کی زندگی جیلوں اور چین کے گرجا گھروں میں روپوشی میں گزری۔بیٹی وہیں رہ گئی

اوکنیم چنگ جنوبی کوریا کی رکن پارلیمان ہیں اور شمالی کوریا کی پناہ گزین کمیٹی کی سربراہ بھی رہ چکی ہیں۔انھوں نے کہا: 'ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ شمالی کوریا سے بھاگ کر آنے والوں کو اپنے جمہوری معاشرے کا حصہ بنائیں۔ لیکن دقت یہ ہے کہ پانچ چھ دہائیوں میں ان کی سوچ ایسی بنا دی گئی ہے کہ اسے تبدیل کرنا آسان نہیں۔ جنوبی کوریا میں ان کے نظریات کے لوگ بھی نہیں ہیں، لہذا ان کو سماج میں گھلنے ملنے میں وقت لگتا ہے۔'دوسری جانب شمالی کوریا سے جنوبی کوریا بھاگ کر پہنچنے والے زیادہ تر افراد اب بھی پرانی یادوں کے ساتھ جدوجہد کر رہے ہیں۔می ريونگ نے رخصت کرتے وقت کہا تھا: 'میں جنوبی کوریا کے ہر شہر میں نہیں رہ سکتی کیونکہ برے تجربے آسانی سے بھلائے بھی تو نہیں جاتے۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}