جامعات ترمیمی بل:حافظ نعیم کی گورنر سندھ سے ملاقات ،دستخط نہ کرنے کی اپیل

جامعات ترمیمی بل:حافظ نعیم کی گورنر سندھ سے ملاقات ،دستخط نہ کرنے کی اپیل

March 19, 2018 - 23:13
Posted in:

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی قیادت میں ایک وفد نے پیر کے روز گورنر سندھ محمد زبیر سے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اور سندھ حکومت کی جانب سے منظور کردہ یونیورسٹیز ترمیمی بل کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا اور عوامی حلقوں طلبہ و اساتذہ کے احتجاج اور بل کی منظوری کے مضمرات سے آگاہ کیا۔ جماعت اسلامی نے گورنر سندھ سے اپیل کی کہ وہ یہ بل منظور نہ کریں کیونکہ بل کی منظوری سے سندھ کی جامعات کی آزادی و خود مختاری ختم ہوجائے گی اور جامعات میں حکومتی وسیاسی مداخلت کے باعث تعلیم اور تعلیمی ماحول پر بھی برے اثرات مرتب ہوں گے ۔ گورنر سندھ نے اس بل پراپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے وفدکو یقین دلایا کہ وہ اس بل کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری کریں گے اور بل کو منظور نہیں کیا جائے گا۔ وفد میں جماعت اسلامی کے نائب امیر ڈاکٹر اسامہ رضی ، ڈپٹی سیکرٹری و صدر پبلک ایڈکمیٹی جماعت اسلامی سیف الدین ایڈووکیٹ اور سیکرٹری اطلاعات زاہد عسکری شامل تھے۔ ملاقات کے بعد حافظ نعیم الرحمن نے گورنر ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اس بل کو مسترد کرتی ہے ۔ اس عوام دشمن قانون کو کسی صورت میں بھی نافذ نہیں کرنے دیں گے ۔ تعلیمی اداروں میں وڈیرہ شاہی نہیں چلنے دیں گے ۔ جامعات کے تحفظ کے لیے تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ 8اپریل کو جامعات بچاؤ، تعلیم بچاؤ کنونشن منعقد کیا جائے گا۔ پیپلز پارٹی اپنے بانی ذو الفقار علی بھٹو کی بنائی ہوئی تعلیمی پالیسی کو تبدیل کررہی ہے اور جامعات کی آزادی و خودمختاری ختم کر کے ان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بھٹو نے جامعات کو خود مختاری دی تھی لیکن آج پیپلز پارٹی اس پر قد غن لگارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گورنر سندھ نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے ۔اختیارات نیچے منتقل کرنے کے بجائے ان پر وڈیرہ شاہی اجارہ داری قائم کرنے سے سندھ کی یونیورسٹیاں اسی طرح تباہ و برباد ہوجائیں گی جیسے ان کے ماتحت اسکول اور کالجز تباہ ہوچکے ہیں ، سندھ اسمبلی میں وڈیرہ شاہی کلچر چل رہا ہے،طاقت اور عددی اکثریت کی بنیاد پر ایوان میں اپنی من مانی کی جارہی ہے ، جمہوریت کی بات کرنے والے وڈیروں کا مینڈیٹ جمہوریت کے ساتھ مذاق کر رہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ 70کی دہائی سے اقتدار میں موجود پیپلزپارٹی نے سندھ میں کوئی یونیورسٹی نہیں بنائی، تعلیم کی بہتری کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ حیدرآباد ، سکھر ، لاڑکانہ اور نواب شاہ تک کوئی جنرل یونیورسٹی نہیں دی ۔ سندھ حکومت جامعات کو اختیارات اور فنڈ ز نہیں دینا چاہتی بلکہ ان پر مکمل قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ لوٹ مار نہیں چلنے دیں گے ، اس بل کے خلاف بھرپور اور مؤثر تحریک چلائیں گے اسے کسی صورت میں بھی منظور نہیں ہونے دیں گے۔تما م مؤثر طبقات کو ساتھ ملاکرجدوجہد کریں گے ۔
بشکریہ جسارتbody {direction:rtl;} a {display:none;}