تمباکو نوشی کا متبادل ’ای سگریٹ‘ کتنے محفوظ ہیں

تمباکو نوشی کا متبادل ’ای سگریٹ‘ کتنے محفوظ ہیں

June 28, 2019 - 12:00
Posted in:

سان فرانسسکو ای سگریٹ کی فروخت پر پابندی عائد کرنے والے پہلا امریکی شہر بن گیا ہے مگر دوسری جانب برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس سگریٹ نوشی ترک کرنے کے عمل میں تمباکو نوشوں کی مدد کے لیے انھیں استعمال کر رہی ہے چنانچہ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ای سگریٹ کے محفوظ ہونے کے خیال کی سچائی کیا ہے؟ای سگریٹ کیسے کام کرتے ہیں؟ای سگریٹ عام طور پر نکوٹین اور پروپائلین گلائیکول کے علاوہ سبزیوں کی گلیسرین پر مشتمل محلول کو گرم کرتے ہیں۔ استعمال کرنے والے اس کے بخارات کھینچتا ہے ہیں جس میں نکوٹین بھی ہوتی ہے جو کہ سگریٹوں میں نشے کا عنصر ہوتا ہے۔ یہ بھی پڑھیے’والدین کی سگریٹ نوشی بچوں کے لیے جان لیوا‘’سگریٹ نوشی کی کوئی محفوظ حد نہیں‘ہر دس میں ایک موت کی وجہ سگریٹ نوشیلیکن نکوٹین تمباکو کے دھوئیں میں شامل متعدد زہریلے کیمیکلز جیسے کہ ٹار اور کاربن مونو آکسائیڈ کے مقابلے میں نسبتاً کم نقصان دہ ہے۔عام سگریٹوں میں موجود تمباکو سے ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے ہزاروں افراد ہلاک ہو جاتے ہیں مگر تمباکو کے برعکس نکوٹین کینسر کا باعث نہیں بنتی۔یہی وجہ ہے کہ این ایچ ایس اب کئی سالوں سے خصوصی چیونگ گم، سکن پیچ اور سپرے کی شکل میں نکوٹین کی متبادل تھیراپی کو لوگوں کو تمباکو نوشی روکنے میں مدد دینے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ کیا ان کے استعمال سے کوئی خطرہ ہے؟برطانیہ کے ڈاکٹرز، ماہرین صحت، کینسر کے خلاف کام کر رہی تنظیمیں اور حکومتیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجود شواہد کے مطابق عام سگریٹس سے لاحق خطرے کے مقابلے میں ای سگریٹس بہت کم خطرے کے حامل ہوتے ہیں۔ آزادانہ طور پر کیے گئے ایک جائزے کے مطابق ای سگریٹ تمباکو نوشی کے مقابلے میں 95 فیصد کم نقصان دہ ہے۔ جائزہ رپورٹ تحریر کرنے والی پروفیسر این میک نیل کہتی ہیں کہ 'ای سگریٹس عوامی صحت کے لیے ایک 'گیم چینجر' ثابت ہوسکتے ہیں۔'تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ مکمل طور پر خطرے سے خالی ہیں۔ ای سگریٹ میں مائع اور بھاپ کے دھوئیں میں بھلے ہی بہت کم سطح پر مگر ممکنہ طور پر نقصان دہ کیمیکل شامل ہو سکتے ہیں۔لیبارٹری میں کیے جانے والے ایک ابتدائی مطالعے میں برطانوی سائنس دانوں کو پتہ چلا کہ بخارات پھیپڑوں کی مدافعتی خلیوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔اگرچہ ان بخارات کی وجہ سے صحت پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں کی جانے والی تحقیق ابتدائی ہے لیکن ماہرین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ ہیں۔ کیا بخارات نقصان دہ ہیں؟فی الحال اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے کہ ان سے دوسرے لوگوں کو نقصان ہو سکتا ہے۔ سگریٹ کے دھوئیں سے دیگر لوگوں کو جو ثابت شدہ نقصان پہنچتا ہے اس کے مقابلے میں ای سگریٹ کے دھوئیں سے صحت کو خطرات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔ یہ بھی پڑھیےسگریٹ چھوڑنے کا 'گرل فارمولہ'’سگریٹ نوشی اچانک ترک نہ کریں‘روس میں سگریٹ نوشی غیر قانونی قرار دینے پر غورکیا ان کے مواد کے حوالے سے قواعد موجود ہیں؟برطانیہ میں ای سگریٹس کے مواد کے حوالے سے امریکہ سے زیادہ سخت قوانین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں تحفظ کی خاطر ای سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار کی حد مقرر ہے جبکہ امریکہ میں ایسا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں اس حوالے سے بھی سخت قوانین موجود ہیں کہ ان کے اشتہار کیسے دیے جا سکتے ہیں، اور ان کی فروخت کہاں اور کسے کی جا سکتی ہے۔ 18 سال سے کم عمر افراد کو یہ سگریٹ فروخت کرنے پر پابندی عائد ہے۔ کیا برطانیہ دنیا سے الگ راہ اختیار کیے ہوئے ہے؟ برطانیہ نے ای سگریٹس کے متعلق امریکہ سے نہایت مختلف مؤقف اختیار کیا ہے لیکن اس کا مؤقف نیوزی لینڈ اور کینیڈا سے کافی ملتا جلتا ہے۔ برطانوی حکومت ای سگریٹس کو سگریٹ کی عادت چھڑوانے کے لیے اہم تصور کرتی ہے اور نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) شاید سگریٹ نوشی چھوڑنے کے خواہشمند افراد کو یہ مفت تجویز کرنے پر بھی غور کرے۔ چنانچہ سان فرانسسکو کے مقابلے میں یہاں ای سگریٹس پر پابندی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وہاں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی تعداد گھٹانے کے بجائے توجہ اس بات پر ہے کہ نوجوانوں کو ای سگریٹس شروع کرنے سے روکا جائے۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی ایک حالیہ رپورٹ میں پایا گیا کہ سگریٹ نوشی چھوڑنا ای سگریٹس کے استعمال کی بنیادی وجہ تھی۔ اس رپورٹ کے مطابق اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ ای سگریٹس نوجوانوں کو سگریٹ نوشی کی جانب راغب کرتے ہیں۔ اس حوالے سے بھی کچھ اشارے موجود ہیں کہ ای سگریٹس کے حوالے سے برطانیہ میں قوانین میں مزید نرمی کی جا سکتی ہے۔ چوں کہ برطانیہ میں سگریٹ نوشی کی شرح گر کر 15 فیصد تک پہنچ چکی ہے اس لیے ارکانِ پارلیمان کی ایک کمیٹی نے کچھ عمارتوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ای سگریٹس پر عائد پابندی میں نرمی کی تجویز ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}