بھارتی گاؤں جہاں کوئی ’شبنم‘ نام نہیں رکھتا

بھارتی گاؤں جہاں کوئی ’شبنم‘ نام نہیں رکھتا

January 17, 2019 - 15:00
Posted in:

بھارتی ریاست اتر پردیش میں ایک ایسا گاؤں موجود ہے جہاں کوئی بھی شخص اپنی بیٹی کا نام ’شبنم‘ نہیں رکھ سکتا۔ بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بھارتی ریاست اتر پردیش کے ضلع مرادآباد کے شہر امروہہ سے 20 کلو میٹرکے فاصلے پر ایک ’باون کھیری‘ نامی گائوں موجود ہے جہاں کی عجیب بات یہ ہے کہ اُس گاؤں میں کوئی بھی شخص اپنی بیٹی کا نام ’شبنم‘ نہیں رکھ سکتا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گاؤں کے مقامی لوگوں نے اس پرُسرار نام کے نہ رکھنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ آج سے 11 سال قبل یہاں ایک دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ14 اور 15 اپریل 2008 کی رات شبنم علی نامی ایک خاتون نے اپنے محبوب سلیم کے ساتھ مل کر اپنے گھر کےتمام 7 افراد کو بے دردی سے قتل کردیا تھا، اُس وقت شبنم 7 ہفتے کی حاملہ تھیں اور آج اُن کا ایک 10 سالہ بیٹا ہے۔ قتل کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سلیم اور شبنم دو الگ الگ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ شبنم نے دو مرتبہ انگریزی اور جیوگرافی میں ماسٹرز کیا ہو ا تھا اور ایک اسکول میں ٹیچر تعینات تھیں، اُن کے والد بھی زمیندار تھے جبکہ سلیم کا تعلق ایک پٹھان گھرانے سے تھا اور اُس نے چھٹی جماعت میں آکر پڑھائی چھوڑ دی تھی اور روزانہ کی بنیاد پر کام کرتا تھا۔ باون کھیری گاؤں کے لوگوں نے مزید بتایا کہ اس لرزاخیز واقعے کے بعد سے گائوں کے تمام لوگوں نے مشترکہ فیصلہ کیا کہ وہ اب کبھی بھی یہاں نا تو ’شبنم‘ کا نام لیں گے اور نہ سنیں گے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب اس گائوں میں کبھی بھی کسی پیدا ہونے والی لڑکی کا نام شبنم بھی نہیں رکھا جائے گا۔ انتظار نامی ایک مقامی شخص نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ شبنم کے گھر سے سامنے رہتے ہیں اور انہوں نے دیکھا ہے کہ آج تک قتل کی جگہ پر خون کے دھبے موجود ہیں۔ انتظار علی نے بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق جس وقت شبنم نے اپنے اہل خانہ کو قتل کیا وہ سارے نشے میں تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق شبنم اور سلیم پر قتل کا الزام ثابت ہونے کے بعد انہیں جیل ہوگئی تھی اور اُنہیں فیصلے میں ’سزائے موت‘ سنائی گئی تھی، بعداز دونوں نے کئی مرتبہ معافی کی درخواست جمع کرائی لیکن وہ مسترد کردی گئی۔ شبنم اور سلیم کے وکیل کی جانب سے ایک آخری مرتبہ دوبارہ درخواست جمع کرائی گئی ہے جس کا فیصلہ اب تک نہیں آیا کہ ان دونوں کی سزائے موت روک دی جائے گی یا نہیں۔ بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}