بِہار: جج نے بیٹی کو قید کیا تو عدالت نے آزاد کر دیا

بِہار: جج نے بیٹی کو قید کیا تو عدالت نے آزاد کر دیا

June 27, 2018 - 15:58
Posted in:

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار میں ایک جج نے اپنی بیٹی کو گھر میں صرف اس لیے قید کر رکھا تھا کہ وہ کسی سے محبت کرتی ہے۔اپنی بیٹی کی محبت سے ناراض ضلع جج نے اپنے گھر میں اسے نظر بند کر رکھا تھا لیکن پٹنہ ہائی کورٹ نے لڑکی کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے اس کی آزادی کا حکم دیا ہے۔اس معاملے میں فیصلہ سناتے ہوئے جج نے حکم دیا ہے کہ 15 دنوں کے لیے اس لڑکی کے لیے علیحدہ رہائش کا انتظان کیا جائے۔اس کے علاوہ عدالت نے حکم دیا ہے کہ اس لڑکی کی 24 گھنٹے سکیورٹی کے لیے خواتین کانسٹیبل تعینات کی جائیں اور اس دوران اسے اس لڑکے سے ملنے کی اجازت بھی ہوگی جسے وہ پسند کرتی ہے۔ضلع جج کے وکیل سنڈیپ شاہی نے صحافی سیٹو تیواری کو بتایا 'عدالت نے متاثرہ لڑکی سے پوچھا کہ کیا وہ اپنے والدین کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو اس کا جواب 'نہیں' تھا اور اس نے کہا کہ وہ اپنے محبوب کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے۔ اس کے بعد عدالت نے اسے علیحدہ رہنے اور سکیورٹی فراہم کیے جانے کا حکم دیا۔'یہ بھی پڑھیےگائے کے بعد اب ’محبت لنچنگ‘عاشق کو شوہر کی صورت دینے کی کوششانڈیا میں عاشقوں کے خلاف ’اینٹی رومیو‘ سکواڈ

اس معاملے میں عدالت نے میڈیا کو حکم جاری کیا ہے کہ وہ لڑکی، لڑکے اور ان کے خاندان کا نام ظاہر نہ کریں۔اس سے قبل اس واقعے کے متعلق مقامی میڈیا میں یہ خبریں آتی رہیں کہ ’لڑکی کو گھر میں زدوکوب کیا جاتا تھا، اسے کھانا نہیں دیا جاتا تھا اور اس کا موبائل چھین لیا جاتا تھا‘۔ان کے وکیل نے کہا: 'عدلیہ سے منسلک لوگ بہت معزز ہوتے ہیں، لہذا کسی بھی طرف سے ان کے خلاف کسی کارروائی کا مطالبہ نہیں کیا گیا ہے۔'اس کیس کی اگلی سماعت 12 جولائی کو ہوگی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}