بریسٹ کینسر سرجن جو خود اس مرض کا شکار ہوگئیں

بریسٹ کینسر سرجن جو خود اس مرض کا شکار ہوگئیں

April 22, 2019 - 18:47
Posted in:

بہت سی دوسری عورتوں کی طرح میں نے بھی اپنے پستان چیک نہیں کیے۔ میں نے سوچا، یہ مجھے تو نہیں ہو سکتا، میں تو خود ہی بریسٹ کینسر سرجن ہوں۔'لیکن ڈاکٹر لِز او ری اورڈن کو بالآخر بریسٹ کینسر کی وجہ سے وہ نوکری چھوڑنی پڑی جس کے لیے انھوں نے 20 برس محنت کی تھی۔سنہ 2015 میں چالیس سال کی عمر میں ان کی میسٹیکٹومی (کینسر والے پستان آپریشن کے ذریعے علیحدہ کرنے کا عمل) ہوئی اور گذشتہ مئی ان کا کینسر دوبارہ واپس آ گیا۔یہ بھی پڑھیے’پاکستان میں نوجوان لڑکیوں میں بریسٹ کینسر بڑھ رہا ہے‘بریسٹ کینسر کے بارے میں آپ کتنا جانتے ہیں؟ کینسر سے متعلق ویڈیو ہٹانے پر فیس بک کی معافی ڈاکٹر لِز او ری اورڈن کا خیال تھا کہ وہ کم از کم 20 سال بطور بریسٹ کینسر سرجن کام کریں گی لیکن وہ صرف دو سال ہی اسے جاری رکھ سکیں۔کینسر کے دوسرے حملے کے بعد ہونے والی ریڈیوگرافی کی وجہ سے ان کے کندھے کی حرکت متاثر ہوئی جس کے بعد انھوں نے نہایت افسوس کے ساتھ سرجری کو خیرباد کہا۔بریسٹ کینسر کی تشخیص سے پہلے ڈاکٹر لِز او ری اورڈن کو بریسٹ میں کچھ گلٹیاں محسوس ہوئی تھیں لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ محض سسٹ یا جھلیاں ہیں۔ چھ ماہ قبل کیے گئے ایک میموگرام میں ان کے پستان صحت مند نظر آئے تھے۔

لیکن جب ایک اور گلٹی بنی تو ان کی والدہ نے دوبارہ سکین پر اصرار کیا۔ انھیں سکین کے بعد فوراً ہی پتہ چل گیا کہ اب ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔'میں نے سکین دیکھا اور مجھے پتہ چل گیا کہ مجھے میسٹیکٹومی کروانے کی ضرورت ہے۔ ایک لمحے میں ہی سمجھ آ گیا کہ مجھے شاید کیمو کی ضرورت پڑے کیونکہ میں جوان ہوں، اور اگلے 10 برسوں میں میرے زندہ رہنے کے کتنے امکانات ہیں۔'43 سالہ ڈاکٹر او ری اورڈن کہتی ہیں کہ بہت کم ڈاکٹروں کو وہ بیماری ہوتی ہے جس میں وہ خود سپیشلائز کرتے ہیں: یقیناً ان کے اپسوچ ہسپتال میں تو کسی کو نہیں ہے۔پہلے تو وہ خوفزدہ ہو گئیں اور ان کے دماغ میں بہت سے سوالات دوڑنے لگے۔'میں اس میں سے کتنی (معلومات) اپنے شوہر اور والدین کو بتا سکتی ہوں۔ کینسر سرجن ہونے کی وجہ سے میں صرف مریض بن کر کتنی معلومات روک سکتی ہوں۔'

اگرچہ ان کو معلوم تھا کہ جسمانی طور پر کیا ہو رہا ہے لیکن انھیں اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ خود مرض میں مبتلا ہونے کا تجربہ کیسا ہوتا ہے۔'مجھے یہ معلوم تھا کہ کسی کو یہ کیسے بتایا جاتا ہے کہ اسے بریسٹ کینسر ہے۔'مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے خاموشی سے برداشت کرتے، آنسوؤں کو روکتے، کلینک سے نکل کر ہسپتال کے برآمدے سے ہوتے ہوئے کار پارک تک پہنچنا اور زور سے چیخنا کیا ہوتا ہے۔' انھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ جو کہ خود بھی کنسلٹنٹ سرجن ہیں، مشورہ کر کے اپنی بیماری کو ٹوئٹر پر اپنے 1500 فولوورز کو بتانے کا فیصلہ کیا۔ یہ سب ان کو ان کے پیشے، بیکنگ سے پیار اور ٹرآتھیلون کی وجہ سے جانتے تھے۔وہ کہتی ہیں کہ سوشل میڈیا ان کی لائف لائن بن گیا اور انھیں لوگوں کے پیغامات کی وجہ سے بہت سہارا ملا۔'دوسرے مریضوں سے مجھے پتہ چلا کہ اس کا مقابلہ کس طرح کرنا ہوتا ہے۔

'ہمیشہ صبح کے تین بجے کوئی نہ کوئی ضرور جاگ رہا ہوتا ہے جو اس وقت آپ سے بات کرتا ہے جب آپ سٹیرائڈ کے زیرِ اثر ’ہائی‘ ہوتے ہیں۔'سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ان کا رابطہ طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ان افراد سے ہوا جو کہ خود کینسر میں مبتلا ہیں۔ اس کے بعد انھوں نے بیماری میں مبتلا شعبہ طب سے منسلک افراد کے لیے ایک وٹس ایپ گروپ بنایا۔' مزید پڑھیےدنیا بھر میں ’کینسر کے کیسز میں اضافہ‘'شیرخوار نے کینسر کی تشخیص میں مدد کی'’مجھے کہا گیا بال لے کر کالا جادو کرو گے‘کینسر کے پہلے حملے کے بعد ڈاکٹر او ری اورڈن واپس اپسوچ ہسپتال کام پر آ گئیں۔ لیکن وہ کہتی ہیں کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کرنا جذباتی طور پر کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔وہ سوچتی تھیں کہ کینسر کے بعد وہ لوگوں کی مختلف طریقے سے مدد کریں گی۔'لیکن یہ میرے ساتھ آج تک ہونے والی سب سے مشکل چیز ثابت ہوئی۔'جب آپ ایک عورت کو یہ بری خبر سناتے ہیں کہ اسے بریسٹ کینسر ہے، تو یہ عام حالات میں بھی ایک مشکل چیز ہے۔ لیکن میں یہ برداشت کر رہی تھی اور خود کو اور اپنے شوہر کو صاف دیکھ سکتی تھی کہ جب ہم نے یہ خبر سنی تو ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہم کیسے لگ رہے ہوں گے۔

'آپ کتنی بیتابی سے چاہتے ہیں کہ کسی ایسے شخص سے رابطہ کریں جسے ایسا تجربہ ہے لیکن میں یہ نہیں کر سکی۔ وہ سب میرے مریض تھے۔‘سنہ 2018 میں ڈاکٹر او ری اورڈن کی بگل میں کینسر دوبارہ لوٹ آیا۔ اس کا اس وقت پتہ چلا جب وہ اپنے ری کنسٹریکٹڈ بریسٹ کو ختم کروانے کے لیے سکین کروانے آئی تھیں۔ اس بریسٹ کی وجہ سے انھیں کافی تکلیف کا سامنا تھا۔اس کے بعد انھیں اسی جگہ پر دوسری مرتبہ ریڈیوتھراپی کروانا پڑی، جو کہ بہت کم ہی ہوتا ہے۔ انھیں بتایا گیا کہ اس کے بعد شاید وہ اپنا بازو صحیح طریقے سے نہ ہلا سکیں، لیکن اگر وہ سرجری نہیں کرواتیں تو حالات اس سے بھی برے ہو سکتے ہیں۔نتیجہ اس سے بھی زیادہ خوفناک نکلا، فائبروسس اور سافٹ ٹشوز کی ٹیتھرنگ یا انھیں باندھنا، جس کی وجہ سے بازو کی حرکت متاثر ہوئی۔اس کے بعد کچھ عرصہ گزارنے کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب بطور سرجن ان کا کیریئر اختتام کو پہنچ چکا ہے اور وہ اب اس پیشے کو ترک کر دیں گی۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}