بجٹ 2019: اب کون کتنا انکم ٹیکس دے گا؟

بجٹ 2019: اب کون کتنا انکم ٹیکس دے گا؟

June 11, 2019 - 21:12
Posted in:

پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے اپنے پہلے بجٹ میں جہاں کم از کم قابلِ ٹیکس آمدن کی حد 12 لاکھ سے کم کر کے تنخواہ دار طبقے کے لیے چھ لاکھ اور دیگر غیر تنخواہ دار طبقے کے لیے چار لاکھ مقرر کی ہے وہیں انکم ٹیکس کا تعین کرنے کے لیے موجود سلیبز کی تعداد بڑھا کر 12 کر دی گئی ہے۔12 لاکھ کی حد گزشتہ برس پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے چھٹے اور آخری بجٹ میں مقرر کی تھی تاہم منگل کو بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیرِ محصولات حماد اظہر نے کہا کہ اس اقدام سے 80 ارب روپے کا نقصان ہوا۔یہ بھی پڑھیے'گو نیازی گو' کی گونج میں 31.37 کھرب خسارے کا بجٹ پیشپاکستانی کون کون سے ٹیکس دیتے ہیں؟2019-20 کے فنانس بل میں تنخواہ دار طبقے کے لیے جو سلیبز مقرر کیے گئے ہیں ان میں کم از کم ٹیکس کی شرح پانچ فیصد جبکہ زیادہ سے زیادہ شرح 35 فیصد ہے۔سلیبز میں کی جانے والی تبدیلیوں کے بعد پہلے سلیب میں ایسے افراد آئیں گے جن کی سالانہ آمدن چھ لاکھ سے کم یعنی 50 ہزار روپے ماہانہ ہے تاہم ان افراد کو کوئی انکم ٹیکس نہیں دینا پڑے گا۔دوسرے سلیب میں ایسے تنخواہ دار افراد کو شامل کیا گیا ہے جن کی آمدن چھ لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ تک ہے اور انھیں چھ لاکھ سے زائد رقم پر پانچ فیصد کی شرح سے ٹیکس دینا ہوگا۔مثال کے طور پر وہ شخص جس کی آمدن دس لاکھ روپے سالانہ یا ماہانہ 83 ہزار تین سو تینتیس روپے ہو وہ اب تک صرف ایک ہزار روپے سالانہ ٹیکس دے رہا تھا تاہم اسے نئے قوانین کے تحت چھ لاکھ کی آمدن پر چھوٹ حاصل ہوگی اور بقیہ چار لاکھ روپے پر وہ پانچ فیصد کی شرح سے 20 ہزار روپے سالانہ ٹیکس دے گا یعنی اس کا ٹیکس 666 روپے بڑھ جائے گا۔آپ کی ماہانہ آمدن اور انکم ٹیکس (ایک لاکھ سے ساڑھے پانچ لاکھ)ماہانہ آمدن
انکم ٹیکس
ایک لاکھ روپے
2500 روپے
ڈیڑھ لاکھ روپے
7500 روپے
دو لاکھ روپے
15000 روپے
ڈھائی لاکھ روپے
23541 روپے
تین لاکھ روپے
32500 روپے
ساڑھے تین لاکھ روپے
42500 روپے
چار لاکھ روپے
52500 روپے
ساڑھے چار لاکھ روپے
63333 روپے
پانچ لاکھ روپے
74583 روپے
ساڑھے پانچ لاکھ روپے
85833 روپے
تیسرا سلیب 12 لاکھ سے 18 لاکھ آمدن والے افراد کے بارے میں ہے جنھیں اب 30 ہزار روپے کے فکس ٹیکس کے علاوہ 12 لاکھ سے زیادہ آمدن پر 10 فیصد کی شرح سے ٹیکس دینا ہوگا۔چوتھے سلیب میں 18 لاکھ سے 25 لاکھ روپے سالانہ آمدنی والے افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ نئے قوانین کے تحت یہ لوگ 90 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس دیں گے جبکہ 18 لاکھ سے زائد آمدن پر انھیں پندرہ فیصد کی شرح سے ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔انکم ٹیکس کا پانچواں سلیب 25 لاکھ سے 35 لاکھ روپے سالانہ سے زائد آمدن پر لاگو ہوتا ہے اور اس کے تحت ایک لاکھ 95 ہزار روپے فکس ٹیکس کے علاوہ 25 لاکھ سے زائد آمدن پر ساڑھے 17 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔چھٹا سلیب 35 لاکھ سے 50 لاکھ آمدن والے افراد کے لیے ہے جو 3 لاکھ 70 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس کے علاوہ 35 لاکھ سے زیادہ آمدن کا 20 فیصد بطور انکم ٹیکس دیں گے۔ساتویں سلیب میں 50 لاکھ سے 80 لاکھ تک کمانے والے لوگوں پر 6 لاکھ 70 ہزار فکس ٹیکس کے علاوہ 50 لاکھ سے زیادہ آمدن پر ساڑھے 22 فیصد انکم ٹیکس لگایا گیا ہے۔آپ کی ماہانہ آمدن اور انکم ٹیکس (چھ لاکھ سے دس لاکھ)ماہانہ آمدن
انکم ٹیکس
چھ لاکھ روپے
97083 روپے
ساڑھے چھ لاکھ روپے
108333 روپے
سات لاکھ روپے
120416 روپے
ساڑھے سات لاکھ روپے
132916 روپے
آٹھ لاکھ روپے
145416 روپے
ساڑھے آٹھ لاکھ روپے
157916 روپے
نو لاکھ روپے
170416 روپے
ساڑھے نو لاکھ روپے
182916 روپے
دس لاکھ روپے
195416 روپے

اس برس زیادہ آمدن والے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کو مزید کئی سلیبز میں تقسیم کیا گیا ہے اور آٹھویں سلیب میں 80 لاکھ سے ایک کروڑ 20 لاکھ آمدن والے افراد کو 13 لاکھ 45 ہزار روپے سالانہ فکس ٹیکس کے علاوہ 80 لاکھ سے زیادہ آمدن کا 25 فیصد بطور انکم ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔نواں سلیب ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے تین کروڑ روپے سالانہ آمدن والے افراد کے لیے ہے جو 23 لاکھ 45 ہزار روپے فکس انکم ٹیکس کے علاوہ ایک کروڑ 20 لاکھ روپے سے زیادہ آمدن پر ساڑھے 27 فیصد انکم ٹیکس دیں گے۔دسواں سلیب تین کروڑ سے پانچ کروڑ آمدنی والوں کے لیے ہے جن سے 72 لاکھ 95 ہزار روپے فکس ٹیکس کے علاوہ تین کروڑ سے زیادہ آمدن پر 30 فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔11ویں سلیب میں پانچ سے ساڑھے سات کروڑ روپے سالانہ آمدن والے افراد آتے ہیں جو ایک کروڑ 32 لاکھ 95 ہزار روپے فکس اور پانچ کروڑ سے زیادہ رقم پر ساڑھے 32 فیصد ٹیکس دیں گے۔آخری اور 12واں سلیب ایسے افراد کے لیے ہے جن کی سالانہ آمدن ساڑھے سات کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔ یہ افراد دو کروڑ 14 لاکھ 20 ہزار روپے فکس اور ساڑھے سات کروڑ سے زیادہ آمدن پر 35 فیصد ٹیکس دیں گے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}