ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر

ایک پپی اِدھر ایک پپی اُدھر

June 11, 2019 - 18:57
Posted in:

کیا زمانہ تھا جب الطاف حسین کو پہلی بار منی لانڈرنگ کے شبہ میں سکاٹ لینڈ یارڈ کے دفتر میں سوال و جواب کے لئے طلب کیا گیا تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کو باقاعدہ فوری بیان جاری کرنا پڑا کہ یہ معمول کی کارروائی ہے۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ شہری اپنا کاروبار جاری رکھیں۔یہ اعلان اس لئے کرنا پڑا کہ چوتھائی صدی سے سندھ کے شہری علاقوں کے لوگ عادی ہو چکے تھے کہ ایک کونسلر یا سیکٹر انچارج یا رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری کی بھی خبر آئے تو موٹر سائیکل سوار لڑکوں کی آمد کا انتظار کئے بغیر دوکانوں کے شٹر گرا کے تالا لگا دیں۔ایسا بھی ہوا کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی نے عین دوپہر میں ’پرامن یومِ احتجاج‘ کی اپیل کی اور شہر آدھے گھنٹے میں یوں ہو گیا گویا کسی جادوئی ہاتھ نے منجمد کر دیا ہو اور پھر ایک گھنٹے بعد احتجاج کی اپیل واپس لی گئی تو مجسموں میں پھر سے حرکت پیدا ہو گئی اور نل بٹا سناٹا شاہراہوں پر دوبارہ ٹریفک جام ہو گیا۔

ٹیلی فونک خطاب کے دوران سٹیج پر بیٹھی قیادت کو صرف دو جملے بولنے کی اجازت و عادت تھی۔ ہر جملے پر جی بھائی جی بھائی کہنا ہے اور جب الطاف بھائی ایک ہزار پانچ سو بیاسیویں بار استعفی کا اعلان کریں تو پوری طاقت لگا کے کہنا ہے ’نہیں بھائی نہیں بھائی۔‘ کیونکہ بھائی ایک ایک کی آواز پہچانتے ہیں۔ الطاف بھائی نے کراچی پر 1988 سے 22 اگست 2016 تک 28 برس شمالی کوریائی انداز کی حکمرانی کی، یکے بعد دیگرے دو نسلیں ان کی مٹھی میں بند رہیں۔ آٹھ برس ایم کیو ایم مشرف حکومت کی دامے درمے ڈارلنگ رہی۔ الطاف حسین چاہتے تو اس بے پناہ اختیار سے کراچی کو جنوبی ایشیا کا مثالیہ بنا سکتے تھے۔ خیر یہ مثالی شہر تو بن گیا مگر کوئی اس مثال کو دہرانا نہیں چاہتا۔ میں نے چند ہفتے قبل فیس بک پر بھائی کے سولو خطاب کی جو وڈیو دیکھی اس پر تب تک صرف 761 لائیکس پڑے ہوئے تھے۔ گویا میری نسل نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اورنگ زیب از خود بہادر شاہ ظفر میں کیسے تبدیل ہوتا ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}