این اے 4 ضمنی انتخاب، ووٹوں کی گنتی جاری، غیرحتمی نتائج آنے لگے

این اے 4 ضمنی انتخاب، ووٹوں کی گنتی جاری، غیرحتمی نتائج آنے لگے

October 26, 2017 - 06:14
Posted in:

پشاور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4 کے ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ کا وقت ختم ہوگیا جس کےبعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوگئی، جبکہ کئی پولنگ اسٹیشنز کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج آنے لگے۔
پشاور حلقہ این اے 4 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 58 کے غیرحتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوارارباب عامر ایوب 147 ووٹ لےکرآگے ہیں جبکہ جماعت اسلامی کے واصل فاروق جان 70 وٹ لیکردوسرے نمبر پر اور ن لیگ کے ناصر خان موسیٰ زئی 61 ووٹ لے کرتیسرے نمبر پر ہیں۔
پولنگ اسٹیشن نمبر 33 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوارارباب عامر ایوب 255 ووٹ لے کر آگے ہیں، جبکہ اے این پی کےخوشدل خان 97 وٹ لیکر دوسرے اور ن لیگ کے ناصر خان موسیٰ زئی 89 ووٹ لیکر تیسرے نمبر پرہیں۔
پولنگ اسٹیشن نمبر 208 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق ن لیگ کے ناصر خان موسیٰ زئی 97 ووٹ لے کر آگے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوارارباب عامرایوب 88 ووٹ لے کر دوسرے اور اے این پی کےخوشدل خان 54 ووٹ لے کر تیسرے نمبرپر ہیں۔
پولنگ اسٹیشن نمبر25کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق اے این پی کےخوشدل خان 25 ووٹ لےکرآگے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی کےامیدواراسد گلزارخان 5 ووٹ لےکردوسرے اورآزاد امیدوارڈاکٹرعلامہ شفیق 4ووٹ لےکرتیسرےنمبرپر ہیں۔
پولنگ اسٹیشن نمبر17 کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتیجے کے مطابق اے این پی کےخوشدل خان 141ووٹ لےکرآگے ہیں جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوارارباب عامرایوب 97 ووٹ لے کردوسرے اور جماعت اسلامی کےواصل فاروق جان 64ووٹ لے کر تیسرے نمبرپر ہیں۔
قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے لیے پولنگ اسٹیشنوں پر رش دیکھا گیا، بزرگ، خواتین اور معذورا فراد بھی ووٹ ڈالنے آئے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب کے لیے کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر پہلی بار الیٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا گیا۔
پولنگ کے دوران بعض مقامات پر بدنظمی دیکھنے میں آئی اور مختلف علاقوں سے 6 افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ بڈھ بیر میں کسی اور کا ووٹ ڈالنے کی کوشش میں پولیس اہلکار پکڑا گیا۔
تحریک انصاف کے رہنما گلزار احمد کی موت کے بعد خالی ہونے والی نشست پر انتخاب لڑنے کے لیے 14 سے زائد امیدوار مدمقابل ہیں جن میں سے 9 آزاد جب کہ 5 کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے۔
حلقے میں تین جماعتوں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔
حلقے میں سیکیورٹی کے لیے پولیس کے 7 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور حساس پولنگ اسٹیشنز پر پاک فوج کے جواب بھی تعینات ہیں۔
تین لاکھ 97 ہزار 904 رجسٹرڈ ووٹروں پر مشتمل حلقہ زیادہ تر مضافاتی علاقوں پر مشتمل ہے جو ایک طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ملا ہوا ہے اور اس میں قبائلی علاقہ جات آیف آر پشاور بھی آتا ہے۔
گزشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار گلزار خان نے مسلم لیگ (ن) کے موجودہ امیدوار ناصر خان موسی زئی کو 34 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔
عام انتخابات میں ناصر خان موسیٰ زئی 20 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے تھے جبکہ تیسری پوزیشن جماعت اسلامی کے حصے میں آئی تھی۔

googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-rectangle_belowpost_btf'); });

بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}