این اے 4ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی امیدوار کی واضح برتری

این اے 4ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی امیدوار کی واضح برتری

October 26, 2017 - 09:13
Posted in:

پشاور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 4 کے ضمنی انتخاب کے لیے ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے، غیر سرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار عامر ایوب کو واضح برتری حاصل ہے۔
پشاور کے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 4 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں 269 میں سے243پولنگ اسٹیشنوں کے غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج سامنے آگئے۔
غیرسرکاری و غیر حتمی نتائج کے مطابق پی ٹی آئی کے امیدوارارباب عامر ایوب42047 ووٹ لے کر آگے ہیں، ن لیگ کےناصرخان موسیٰ زئی 22253 ووٹ لے کردوسرے، اے این پی کےخوشدل خان 22234 ووٹ لےکر تیسرے جبکہ پیپلزپارٹی کےاسد گلزار خان 11945 ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر ہیں۔
قومی اسمبلی کی نشست پر ہونے والے ضمنی انتخاب میں پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 5 بجے تک جاری رہی، پولنگ کے لیے پولنگ اسٹیشنوں پر رش دیکھا گیا، بزرگ، خواتین اور معذورا فراد بھی ووٹ ڈالنے آئے۔
حلقے میں تین جماعتوں تحریک انصاف کے عامر ایوب، مسلم لیگ (ن) کے ناصر موسیٰ زئی، پیپلزپارٹی کے امیدوار اسد گلزار اور عوامی نیشنل پارٹی کے خوشدل خان کے درمیان کا نٹے کا مقابلہ تھا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی انتخاب کے لیے کچھ پولنگ اسٹیشنوں پر پہلی بار الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال کیا گیا۔
پولنگ کے دوران بعض مقامات پر بدنظمی دیکھنے میں آئی اور مختلف علاقوں سے 6 افراد کو گرفتار کیا گیا جب کہ بڈھ بیر میں کسی اور کا ووٹ ڈالنے کی کوشش میں پولیس اہلکار پکڑا گیا۔
تحریک انصاف کے رہنما گلزار احمد کی موت کے بعد خالی ہونے والی نشست پر انتخاب لڑنے کے لئے 14 سے زائد امیدوار مدمقابل ہیں جن میں سے 9 آزاد جب کہ 5 کا تعلق سیاسی جماعتوں سے ہے۔
حلقے میں سیکیورٹی کے لئے پولیس کے 7 ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں اور حساس پولنگ اسٹیشنوں پر پاک فوج کے جوان بھی تعینات ہیں۔
تین لاکھ 97 ہزار 904 رجسٹرڈ ووٹروں پر مشتمل حلقہ زیادہ تر مضافاتی علاقوں پر مشتمل ہے جو ایک طرف قبائلی علاقے خیبر ایجنسی سے ملا ہوا ہے اور اس میں قبائلی علاقہ جات آیف آر پشاور بھی آتا ہے۔
گزشتہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کے امیدوار گلزار خان نے مسلم لیگ (ن) کے موجودہ امیدوار ناصر خان موسی زئی کو 34 ہزار سے زائد ووٹوں سے شکست دی تھی۔
عام انتخابات میں ناصر خان موسیٰ زئی 20 ہزار سے زیادہ ووٹ لے کر دوسرے نمبر پر آئے تھے جب کہ تیسری پوزیشن جماعت اسلامی کے حصے میں آئی تھی۔
 

googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-rectangle_belowpost_btf'); });

بشکریہ جنگbody {direction:rtl;} a {display:none;}