ایسے تصورات جو روایات بدلیں گے

ایسے تصورات جو روایات بدلیں گے

October 04, 2017 - 09:41
Posted in:

اس سال 100 ویمن چیلنج کے سلسلے میں آپ اپنے خیالات پیش کر رہے ہیں کہ کس طرح عورتوں کی ترقی میں حائل روایتی بندھنوں کو توڑا جا سکتا ہے۔رواں ہفتے ناسا کی انجینیئر اور 100 ویمن کی پچھلی فہرست میں شامل ایولن میرالس نے چند خیالات کو فیچر کے لیے منتخب کیا ہے۔وہ کہتی ہیں: 'میں نے جن سات خواتین کو چنا ہے وہ مردوں کو افرادی قوت میں عدم مساوات کے بارے میں آگاہی دینے اور مضبوط خاتون کردار کی تلاش کے بارے میں بات کرتی ہیں۔' ایولن میرالس نے بتایا کہ 'وہ کام کا لچکدار ماحول بھی چاہتی ہیں جو خواتین ملازمین کو با اختیار بنائے۔'1 لڑکوں کو صنفی مساوات کے بارے میں سکھایا جانا چاہیے: اینا فلپینزہمارے ملک میں صنفی تعصب اب بھی معمول ہے۔ خواتین پر دباؤ ہوتا ہے کہ وہ کام کرنے کے ساتھ ساتھ سب کچھ کرے، اور مرد صرف کام کرے، یہ مضحکہ خیر ہے۔ اب بھی دفاتر میں خواتین کے بارے میں لطیفے سنائے جاتے ہیں، اور مجھے لوگوں کو روکنا پڑتا ہے۔ یا پھر ان کا رخ کسی اور طرف موڑنا پڑتا ہے۔یہ ایک روایت ہے جسے صرف کم عمری میں تعلیم کے ذریعے ہی بدلا جا سکتا ہے۔ لڑکوں کو صنفی مساوات کے بارے میں سکھایا جانا چاہیے اور لڑکیوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ ماؤں یا گھریلو کام کاج سے کہیں بڑھ کر کام کر سکتی ہیں۔دو اہم وجوہات جن کی بنا پر خواتین اپنی ملازمت چھوڑ دیتی ہیں وہ خاندان کی دیکھ بھال یا پھر جنسی ہراسانی ہیں۔ لیکن ہم اسے تبدیل کر رہے ہیں۔خصوصاً اعلیٰ سطح پر ہم اپنے مردوں کو تصویر کے بڑے رخ سے روشناس کراتے ہیں۔ جب خواتین کامیابی حاصل کرتی ہیں تو زیادہ لوگوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

5 ناشتے پر میٹنگز اور مراسم بنانے کی تقاریب نہیں ہونی چاہیے: دارا آئرلینڈمیں دو بچوں کی والدہ ہوں اور اکیلی ہوں۔ ٹی وی کے لیے اشتہارات بنانے والے کامیاب ادارے کی ایم ڈی ہوں۔ایک ماں اور والدین میں اکیلی ہونے کے ناطے جو میرے خاندان کے لیے سب سے زیادہ غیر دوستانہ عمل ہے وہ ناشتے پر کی جانے والی میٹنگز اور مراسم بڑھانے والی تقریبات ہیں۔جب تک آپ کے پاس بچوں کی دیکھ بھال کا نظام نہ ہو (جو کہ اکثریت کے پاس نہیں ہوتا) تو یہ ناممکن ہے کہ آپ صبح چھ بجے بچے کی دیکھ بھال کرنے والا (بے بی سٹر) بلائیں اور خود میٹنگ کے لیے جائیں۔معمول کے اوقات کار یا شام میں بچوں کی دیکھ بھال صبح صادق کے مقابلے میں آسان کام ہے۔ یہ غالباً چھوٹی سی بات لگ رہی ہو گی لیکن غور کریں کہ ان تقاریب میں کتنے مراسم بنائے جاتے ہوں گے۔ مراسم سے کریئر بنتا ہے اور روایات کو بدلنے میں مدد ملتی ہے۔جب تک عام طور پر خاندان کے لیے غیر دوستانہ سمجھے جانے والے کام کے ماحول کو چیلنج نہیں کیا جاتا، خواتین کام کی جگہ کے لیے ایک نقصان ہی سمجھی جاتی رہیں گی۔6 ملازمت کرنے والی ماؤں کے لیے لچکدار ماحول: کواسی، گھانامیں اس بات پر یقین رکھتی ہوں کہ ایک طریقے سے روایات کو بدلا جا سکتا ہے، اور وہ ہے ملازمت کرنے والی ماؤں کے لیے کام کے ماحول کو لچکدار رکھنا اور یہی گھانا کے دارالحکومت اکرا میں ایک آرکیٹیکچرل فرم کر رہی ہے۔|یہ ادارہ نانا آکو برمیہ نے شروع کیا تھا جنھوں نے اپنی پچھلی ملازمت اس احساس کی وجہ سے چھوڑ دی تھی کہ ان کا ادارہ ماں بننے کے عمل کے دوران مددگار ثابت نہیں ہو گا۔ تو جب انھوں نے اپنا ادارہ شروع کیا تو اس بات کو یقینی بنایا کہ وہاں خواتین اس تکلیف کا شکار نہ ہوں۔اس ادارے میں مائیں اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لا سکتی ہیں اور ان کی دیکھ بھال کے لیے آیاؤں کو بھی خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ یہ ایک مثال ہے جو دنیا بھر میں نافذ کی جا سکتی ہے۔ 7 معلوم کیا جانا چاہیے کہ طاقتور خواتین سے مرد خوف زدہ کیوں ہو جاتے ہیں: سنتھیا، امریکہمیں اس بات میں دلچسپی رکھتی ہوں کہ ایک سروے کیا جائے جس سے اندر کی بات معلوم کی جائے اور شعور کے اندر جھانکا جائے کہ خواہشمند مرد دیکھ سکیں کہ وہ یا دیگر مرد طاقتور خواتین سے کیوں خوف زدہ ہو جاتے ہیں۔ یہ میرا سب سے اچھا اندازہ ہے کیونکہ مردوں کو کئی بار عورتوں کے معاملے میں جوڑ توڑ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، مرد عورتوں کو قابو کرتے ہیں یا ان پر جبر کرتے ہیں۔ یہ سروے روایات بدلنے میں خاصا مددگار ثابت ہو گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}