ایران کے معاملے پر امریکی خفیہ ادارے سادہ ہیں: صدر ٹرمپ

ایران کے معاملے پر امریکی خفیہ ادارے سادہ ہیں: صدر ٹرمپ

January 30, 2019 - 22:38
Posted in:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خفیہ اداروں کو ایران کے معاملے میں 'سادہ' قرار دیا ہے جبکہ شمالی کوریا کی طرف سے ممکنہ خطرے کے بارے میں ان کے تجزیوں کو مسترد کر دیا ہے۔'ایران سے ہوشیار رہیں، غالبا خفیہ اداروں کو دوبارہ سکول میں داخلہ لینا چاہیے' صدر ٹرمپ نے ایک ٹوئٹ میں کہا۔ صدر کی ایران کے بارے میں یہ ٹویٹ خفیہ اداروں کی اس رپورٹ کے بعد کی گئی جس میں کہا گیا تھا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں بنا رہا۔اسی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کو اور جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کے امکانات کم ہیں۔ نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر ڈان کوٹس اور دیگر خفیہ اداروں کے سربراہوں کی طرف سے منگل کو عالمی خطرات کے بارے میں اندازوں اور تجزیوں پر مبنی رپورٹ سینیٹ کے سامنے پیش کی گئی تھی جس میں ایران اور شمالی کوریا کے بارے میں خفیہ اداروں کے تجزیے بھی شامل تھے۔گزشتہ برس امریکہ نے ایران کے ساتھ جوہری پروگرام کے حوالے سے ہونے والے کثیر الملکی معاہدے سے یک طرفہ طور پر علیحدگی اختیار کر لی تھی اور ایران پر مزید پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے اس فیصلے پر امریکہ کو اپنے مغربی اتحاد ملکوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔دوسری طرف صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا سے تعلقات کو بہتر کرنے کے لیے سنگاپور میں شمالی کوریا کے متلعق العنان سربراہ کم جانگ ان سے ملاقات کی تھی جس میں جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے مذاکرات کیے گئے تھے۔شمالی کوریا کے ساتھ سربراہی ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ شمالی کوریا کی طرف سے جوہری خطرے کا خاتمہ ہو گیا ہے لیکن ان کے اس دعوے پر امریکی سیاستدانوں اور ماہرین کی طرف سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔امریکی خفیہ اداروں کی رپورٹ میں چین اور روس کی طرف سے سنہ 2020 کے امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے بارے میں خبر دار کیا گیا اور انتخابات کے دوران سائبر حملوں کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کیا۔صدر ٹرمپ نے ایران کے بارے میں کیا کہا؟ٹوئٹر پر متعدد پیغامات میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی طرف سے ممکنہ خطرات کے معاملے پر امریکی خفیہ ادارے سادگی اورمجہولیت کا شکار ہیں۔ انھوں نے ان کے اندازوں کو غلط قرار دیا۔انھوں نے مزید کہا کہ ایران پورے مشرق وسطی اور اس کے باہر بھی مشکلات پیدا کر رہا ہے لیکن جب سے امریکہ نے جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی ہے صورت حال میں تبدیلی آئی ہے۔

@realDonaldTrump کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ

@realDonaldTrump کی ٹوئٹر پر پوسٹ سے آگے جائیں

انھوں نے خبردار کیا کہ تہران اب بھی خطے کے لیے خطرہ ہے اور اس ضمن میں انھوں نے ایران کی طرف سے حالیہ راکٹ کے تجزیوں کا حوالہ بھی دیا۔سیبیٹ میں سماعت کے دوران سی آئی اے کی ڈائریکٹر جینا ہسپال نے کہا تھا کہ تکنکی اعتبار سے ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے جبکہ امریکہ نے معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی ہے اور ایران پر اور سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ تاہم خفیہ اداروں کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا کہ خطے میں ایران کے اہداف اور اس کی بہتر ہوتی ہوئی فوجی صلاحیت مستقبل میں امریکی مفادات کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔صدر نے شمالی کوریا کے بارے میں کیا کہا؟صدر نے کہا کہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ شمالی کوریا کا کیا بنتا ہے لیکن ماضی کی امریکی انتظامیہ کے شمالی کوریا سے تعلقات انتہائی خراب تھے اور کچھ بھی ہو سکتا تھا۔انھوں نے کہا کہ 'اب پوری کہانی بدل گئی ہے۔ میں جلد ہی کم جانگ ان سے ملوں گا۔ پیش رفت ہو رہی ہے ۔ بڑا فرق پڑ گیا ہے۔'امریکی خفیہ اداروں کے مطابق اس بات کا امکان بہت کم ہے کہ شمالی کوریا مکمل طور پر اپنے جوہری ہتھیار ختم کر دے۔ انھوں نے کہا کہ جب وہ امریکہ کے ساتھ جزوی طور پر جوہری ہتھیار ختم کرنے کے مذاکرات کر رہا تھا تو اس کا مقصد بین الاقومی سطح پر کچھ سہولیات حاصل کرنا تھا۔اس رپورٹ میں کہا گیا کہ جوہری ہتھیاروں کو شمالی کوریا کی موجودہ حکومت کے استحکام کے لیےانتہائی اہم تصور کیا جاتا ہے۔

@realDonaldTrump کی ٹوئٹر پر 2 پوسٹ کا خاتمہ

@realDonaldTrump کی ٹوئٹر پر 2 پوسٹ سے آگے جائیں

کیا یہ پہلا موقع ہے کہ صدر ٹرمپ کے خفیہ اداروں کے سربراہوں سے اختلافات ہوئے ہیں؟یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ صدر اور خفیہ اداروں کے اختلافات سامنے آئے ہوں۔گزشتہ سال صدر ٹرمپ کو رپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا جب انھوں نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں روسی مداخلت کو رد کر دیا تھا۔امریکی خفیہ اداروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ سنہ 2016 میں روس ان کوششوں کی پشت پناہی کر رہا تھا جن کا مقصد صدراتی انتخابات کی مہم میں ہیلری کلنٹن کے پلڑے کو ہلکا کرنا تھا اور اس سلسلے میں جھوٹی خبروں کا سہارا لیا گیا جو سوشل میڈیا پر جاری کی جاتی تھیں۔ گزشتہ سال جولائی میں امریکی صدر کے ساتھ ملاقات میں روسی صدر ولادمیر پوتن نے ان الزامات کو رد کیا تھا اور کہا تھا کہ انتخابات میں مداخلت کرنے کی روس کو کوئی ضرورت نہیں تھی۔صدر ٹرمپ نے اس کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ روسی صدر خود کہتے ہیں کہ یہ روس نہیں تھا۔ لیکن اس پریس کانفرنس کے چوبیس گھنٹے بعد ہی انھوں نے اپنا بیان بدل دیا تھا اور کہا تھا کہ انھوں کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ روس ایسا کیوں نہیں کرے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}