ایران کے جوہری معاہدے کی حمایت پر مجبور

ایران کے جوہری معاہدے کی حمایت پر مجبور

October 15, 2017 - 06:00
Posted in:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بارے میں نئی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کی ایک بھیانک تصویر کھنچی ہے۔ ایک ایسے ظالم اور دقیانوسی ملک کی جو ایک انقلابی سوچ کے تحت امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہر موڑ پر حملہ کرنا چاہتا ہے۔سابق صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے نرمی جو رویے کے برعکس ارب پتی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کا گلہ دبانے پر تلی ہوئی ہے تاکہ جوہری معاہدے کو سو فیصد موثر بنایا جا سکے اور ایران کے خطے میں اثر و رسوخ کا توڑ کیا جا سکے۔ایران کے خلاف اس سخت گیر رویے کا اپنی سیاسی بنیاد کو مضبوط کرنے کے علاوہ ڈونلڈ ٹرمپ کا کیا مقصد ہو سکتا ہے؟ یہ کسی حد تک اوباما کی پالیسی سے مختلف ہے؟ اور اس کے کیا ممنکہ نتائج نکل سکتے ہیں؟ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی ٹرمپ کی طرف سے سختی سے مخالفت کو دیکھتے ہوئے جو چیز قابل حیرت ہے وہ یہ کہ امریکہ اس معاہدے سے نکل نہیں رہا۔ امریکہ کا صدر بڑی آسانی سے ایران کے خلاف جوہری پابندیاں بحال کرسکتا تھا اور اس کے لیے انھیں کیپیٹل ہل یا پارلیمان سے رجوع کرنے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ اس کے باوجود انھوں نے جوہری معاہدے کو کانگریس کی جھولی میں ڈال دیا ہے۔وہ واضح طور پر یہ چاہا رہے ہیں اور کانگریس کے سرکردہ رہنما پہلے سے ہی امریکی قوانین میں ایسی ترامیم پر کام کر رہے ہیں جن کے بعد ایران ان ترامیم میں متعین کردہ کوئی بھی اقدام کرے گا تو خود بخود اس پر پابندیاں لاگو ہو جائیں گی۔اس قسم کا تاثر بھی موجود ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ کانگریس اس معاہدے کے تحت چند پابندیاں جن کے اٹھائے جانے کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے اور جن کو اس معاہدے کے تحت ’سن سیٹ‘ شقوں کا نام دیا گیا انھیں بے معنی بنا دیا جائے ان اقدامات سے مشروط کر دیا جن کے اٹھاتے ہیں ایران پر خودبخود پابندیاں عائد ہو جائیں۔اگر امریکی قوانین میں ان ترامیم پر اتفاق ہو گیا تو کیا صورت پیدا ہو گی؟ لیکن یہ عمل کتنا غیر معمولی ہوگا اس کو نوٹ کیے جانے کی ضرورت ہے۔دراصل اندرونی یا ملکی قوانین کے سہارے یہ ایک کثیرالملکی معاہدے کو بدلنے کی کوشش ہو گی۔

یہ نکتہ بہت اہم ہے کیوں کہ یہ خطہ اب بہت سنگین اور نازک دور میں داخل ہو رہا ہے۔ شدت پسند دولت اسلامیہ نامی تنظیم کو شکست ہو چکی ہے اور عراق اور شام میں مالی غنیمت کے لیے جنگ ہو رہی ہے۔ عراق کی شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کی حکومت پر ایران کا کافی اثر ہے اور اس کے علاوہ بہت سی مسلح تنظیموں بھی اس کے موقف کی تائید کرتی ہیں اور اس کی مربی ہیں۔ شام میں ایران اسد حکومت کا کلیدی ساتھی ہے جس کی وجہ سے وہ اوراس کے زیر اثر بہت سی نتظیمیں براہ راست امریکی کی حمایت یافتہ گروپوں کے مخالف کھڑے ہیں۔ کیا یہ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو بڑھانے کا وقت ہے؟ اور یہ یہ وقت مشترکہ طور پر مذاکرات کے موقع کو سنبھالنے کا وقت ہے؟ سفارت کاری کی گھسی پٹی تعریف یہ کہ یہ ممکنات کا آرٹ یا فن ہے۔ جوہری معاہدہ اپنی تمام تر خامیوں کے باوجود فی الحال واحد حل میسر تھا۔ یہ معاہدہ جیسے تیسے چل رہا ہے شاید کمزور ہوا ہے لیکن ختم نہیں ہوا ہے۔ ایران کو روکنے کی ٹرمپ کی کوششیوں کے خدوخال واضح نہیں ہوئے ہیں اور ان کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔ ٹرمپ کی حالیہ تقریر صدر ٹرمپ خیالات اور ان کے اعلی ترین فوجی اور سول حکام کی سوچ میں ایک تلخ سمجھوتے کی عکاس ہے۔ وہ سب ایران کے خلاف سخت پابندیوں کو عائد ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی وہ صدر ٹرمپ کے سامنے ایران کے جوہری معاہدے کی اس کی تمام تر خامیوں کے باوجود حمایت بھی کرتے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}