ایران میں غیر قانونی شراب پینے سے 42 افراد ہلاک

ایران میں غیر قانونی شراب پینے سے 42 افراد ہلاک

October 02, 2018 - 01:32
Posted in:

ایران کی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ ملک میں غیر قانونی شراب پینے سے کم سے کم 42 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایران کی وزارتِ صحت کے ترجمان عراج ہریچی کا کہنا ہے کہ آلودہ شراب پینے سے 16 افراد اندھے جبکہ 170 افراد کو ڈائلیسس کروانا پڑا۔ واضح رہے کہ ایران میں گذشتہ تین ہفتوں کے دوران پانچ صوبوں میں کم سے کم 460 افراد کو شراب نوشی کی وجہ سے ہسپتال پہنچایا گیا ہے۔ایران میں شراب غیر قانونی ہے تاہم ملک میں بڑے پیمانے پر شراب کی خرید و فروخت کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ ایران کے جنوبی شہر بندر عباس میں پولیس نے ایک جوڑے کو مبینہ طور پر گھریلو شراب بنانے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ بی بی سی فارسی کے رانا رحیم پور کا کہنا ہے کہ ایران میں آلودہ شراب پینے سے ہلاک یا زخمی ہونا غیر معمولی نہیں ہے تاہم حیران کن بات شراب نوشی سے ہلاک ہونے والی کی تعداد کا بڑھنا اور اس کا دوسرے صوبوں تک پھیلنا ہے۔ بی بی سی فارسی سے بات کرنے والے تجزیہ کاروں کو یقین ہے کہ امریکہ کے ایران کے جوہری معاہدے سے باہر نکل جانے سے ایران کی اقتصادی صورت حال پر پڑنے والا اثر اس کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ امریکی ڈالر کے مقابلے میں ایرانی کرنسی کی گرتی ہوئی قیمت کے باعث لوگ مہنگی غیر ملکی درآمدات کے مقابلے میں سستی اور گھریلو شراب کی جانب راغب ہو سکتے ہیں۔ ایران کے حکام کو یقین ہے کہ ملک میں ہر سال 80 ملین لیٹر غیر قانونی شراب سمگل کی جاتی ہے۔ایران میں سنہ 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب کے بعد ملک میں شراب نوشی کی سخت ممانعت ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}