اپوزیشن سینیٹ چیئرمین کو کیوں ہٹانا چاہتی ہے؟

اپوزیشن سینیٹ چیئرمین کو کیوں ہٹانا چاہتی ہے؟

June 28, 2019 - 05:49
Posted in:

اسلام آباد میں بدھ کو منعقد ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں حزبِ اختلاف کی تمام جماعتیں ایک نکتے پر متفق نظر آئیں اور وہ یہ کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین صادق سنجرانی کو ان کو عہدے سے ہٹایا جائے۔جمعرات کو قومی اسمبلی میں بھی بجٹ اجلاس کے دوران حزبِ اختلاف کی جماعتوں کے اراکین ایک دوسرے سے اس بارے میں مشاورت کرتے نظر آئے۔صادق سنجرانی کی تبدیلی بظاہر جتنی آسان دکھائی دے رہی ہے کیا حقیقت میں بھی ایسا ہی ہے؟یہ بھی پڑھیےسینیٹ کی چیئرمینی اور بدتمیز بجوکاسینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کون ہیں؟آل پارٹیز کانفرنس:’حکومت ملکی سلامتی کے لیے خطرہ‘اس بارے میں سابق سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اے پی سے نے جو فیصلہ لیا اس پر عمل درآمد تمام جماعتوں کی ذمہ داری ہے۔ لیکن یہ کب اور کیسے ہونا ہے، نیا امیدوار کون ہو گا اور اس کو کب ڈھونڈا جائے گا اس میں ہو سکتا ہے کہ کچھ وقت لگے۔‘اس سوال پر کہ سینیٹ کے چیئرمین کو ہٹانے کا فیصلہ کیوں کیا گیا ہے ایاز صادق کا کہنا تھا کہ ’آپ کو بھی پتا ہے کہ سینیٹ چیئرمین کیسے اور کس طرح آئے مگر اس طرح کے فیصلے ہوتے رہتے ہیں۔ سیاست میں کسی کی بھی مستقل پوسٹ نہیں ہوتی اور اسی طرح کوئی مستقل فیصلہ نہیں ہوتا۔‘انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایک احساس یہ بھی ہے کہ ایک غلط فیصلہ کیا گیا (چیئرمین کی تعیناتی) اب اس کی تصحیح کرنا چاہ رہے ہیں۔`یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ سینیٹ کے موجودہ چیئرمین کو ہٹانے کے لیے کوشاں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرِ پاکستان آصف علی زرداری ان کے انتخاب کے معاملے میں پیش پیش تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب اپوزیشن کی تمام جماعتیں پی پی پی کے سینیٹر میاں رضا ربانی کو چیئرمین بنانے کے لیے متفق تھیں لیکن اس کے باوجود ان کی اپنی ہی پارٹی کے رضا ربانی کو چھوڑ کر آصف علی زرداری کی منشا کے مطابق صادق سنجرانی کی حمایت کی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حمایت کی وجہ سے صادق سنجرانی مطلوبہ تعداد میں ووٹ لینے میں کامیاب ہوئے اور وہ چیئرمین منتخب ہوئے۔

پارلیمان کی کارروائی پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی ایم بی سومرو کا کہنا ہے کہ اگر عدم اعتماد کی تحریک رد ہونی ہے تو اس کے لیے مسلم لیگ نواز یا پیپلز پارٹی کے ارکان کا اس تحریک کی حمایت نہ کرنا لازم ہے۔’اگر دونوں پارٹیاں نہیں ٹوٹتیں تو سینیٹ چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک رد ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔‘حکومت کیا سوچ رہی ہے؟سینیٹ چیئرمین کو ہٹانے کے منصوبے پر وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ وہ ’اپوزیشن کے منفی ایجنڈے کو مسترد کرتے ہیں۔‘ان کا کہنا تھا کہ کسی کی خواہشات کے تابع ملک نہیں چلایا جا سکتا۔اے پی سی کے بعد ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا تھا کہ اس کانفرنس میں شامل تمام رہنما اپنے خودغرضانہ ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’اسفند یار ولی نے (چیئرمین سینیٹ کو ہٹانے کا مطالبہ کر کے) پیپلز پارٹی کے پشت میں خنجر گھونپا ہے کیونکہ پیپلز پارٹی ہی تو وہ جماعت تھی جو موجودہ چیئرمین کے انتخاب میں شامل تھی۔‘

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}