انڈین وزرا نے سائنس کی تاریخ دوبارہ لکھ دی

انڈین وزرا نے سائنس کی تاریخ دوبارہ لکھ دی

September 23, 2017 - 10:28
Posted in:

بدھ کو انڈیا کے جونیئر وزیر برائے تعلیم ستیاپال سنگھ کے ایک بیان نے بہت سے لوگوں کو اس وقت حیران کر دیا جب انھوں نے یہ تجویز دی کہ انجنیئرنگ کے طالب علموں کو قدیم دور میں انڈین ایجادات کے بارے میں پڑھایا جائے۔ جس میں یہ بھی شامل ہو کہ پہلے جہاز کا ذکر رامائن دور میں ملتا ہے۔ ستیاپال سنگھ انجنیئرنگ کی ایوارڈ کی تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ انھوں نے شرکا کو بتایا کہ رائٹ برادرز سے آٹھ سال پہلے پہلا جہاز ایک انڈین شیواکر بابوجی نے بنایا تھا۔ شیواکر بابوجی کے اس دعوے کی تصدیق نہیں ہو سکی تھی اس لیے ستیاپال سنگھ کے اس بیان کا سوشل میڈیا پر بہت مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ بہرحال وہ پہلے انڈین وزیر نہیں ہیں جنھوں نے یہ دعویٰ کیا سائنس میں انڈیا کی قدیم دور میں خدمات رہی ہیں یا جہاز ایک انڈین نے ایجاد کیا تھا۔ ایک اعلیٰ سائنس کانفرنس کے دوران سنہ 2015 میں ایک سپیکر نے شرکا کو بتایا تھا کہ جہاز کے موجد کا نام بہارادواجہ تھا جو 7000 سال پہلے موجود تھے۔ کیپٹن آنند بوداس ایک ریٹائرڈ پائلٹ ہیں اور اسی شعبے میں تربیتی ادارے کے سربراہ بھی ہیں۔ انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہزاروں سال پہلے انڈیا میں جہاز موجود تھے۔یہاں کچھ دیگر مشکوک سائنسی دعوے ہیں جنھوں نے ماضی میں بھی توجہ مبذول کی تھی۔ پلاسٹک سرجری کے دیوتا

رواں ماہ جنوری میں راجھستان کے وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ یہ اہم ہے کہ گائے کی سائنسی اہمیت کو سمجھا جائے کیونکہ یہ پوری دنیا میں واحد جانور ہے جو آکسیجن کو اپنے سانس کے ذریعے اندر لے کر جاتا بھی ہے اور اسے باہر بھی نکالتا ہے۔ واسو دیو دیونانی بے اس بارے میں کسی ریسرچ کا حوالہ نہیں دیا جس سے ثابت ہو سکے کہ گائے آکسیجن بھی فضا میں چھوڑتی ہے۔ جب ان کا یہ بیان میڈیا کے سامنے آیا تو تب بھی اس کا بہت مذاق اڑایا گیا تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}