انڈین جیل میں پاکستانی قیدی کا قتل

انڈین جیل میں پاکستانی قیدی کا قتل

February 20, 2019 - 18:03
Posted in:

جے پور کی سینٹرل جیل میں ایک پاکستانی قیدی اور بعض مقامی قیدیوں کے درمیان جھگڑے کے بعد مبینہ طور پر کئی قیدیوں نے مل کر ایک پاکستانی قیدی کو قتل کردیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں چار قیدیوں کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔اے این آئی ایجنسی کے مطابق مارے جانے والے پاکستانی قیدی کا تعلق سیالکوٹ سے تھا۔وہ سنہ 2011 سے جے پور کی جیل میں تھے۔ جے پور کی ایک ذیلی عدالت نے انھیں دو دیگر پاکستانی شہریوں کے ہمراہ انڈیا میں دہشت گردی پھیلانے کے جرم میں سزا سنائی تھی۔پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ تناؤ کے حوالے سے مزید پڑھیےایران، انڈیا میں حملے: کیا پاکستان تیار ہے؟حملے کی صورت میں جوابی حملہ کریں گے: عمران خانبات چیت کا وقت ختم،اب کارروائی کا وقت ہے: مودی تحمل رکھیں، جواب دیا جائے گا: نریندر مودی پاکستان انڈیا کو تباہ کرنے کا خواب چھوڑ دے: مودیکیا پلوامہ حملہ انٹیلیجنس کی ناکامی تھا؟سینیئر پولیس افسر لکشمن گور نے قیدی کی ہلاکت کے بارے میں صحافیوں کو بتایا' اس مقدمے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور اس مرحلے پر میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ پاکستانی قیدی کو قتل کیا گیا ہے۔‘ ابتدائی طور پر یہ اطلاع ملی کہ قیدی ٹی وی دیکھ رہے تھے اور لڑائی ٹی وی کی آواز پر شروع ہوئی۔ یہ واقعہ بدھ کی دوپہر ایک بجے کے قریب رونما ہوا۔جے پور جیل میں پاکستانی قیدی کے قتل کے بعد سینئیر پولیس افسر اور فوررنسک کے ماہرین جیل پہنچ گئے اور اس قتل کی تفتیش جاری ہے۔پاکستانی قیدی کے قتل کا یہ واقعہ پلوامہ میں دہشت گردی کے واقعے کے چند روز بعد ہی ہوا ہے۔ جے پور سے صحافی ناراین باریٹھ نے مختلف ذرائع سے خبر دی ہے کہ راجستھان کی مختلف جیلوں میں ایک درجن سے زیادہ پاکستانی قیدی مقید ہیں۔ جے پور جیل میں 1173 قیدیوں کی جگہ ہے لیکن یہاں 1458 قیدی ہیں۔مقتول کو شدت پسند تنظیم لشکرطیبہ کا رکن بتایا جاتا ہے اور وہ جے پور کی جیل میں دہشت گردی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔

اس کے جواب پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے منگل کو پلوامہ حملے کے معاملے پر پالیسی بیان میں انڈیا کو پلوامہ میں نیم فوجی اہلکاروں پر ہونے والے خود کش حملے کی تحقیقات میں مکمل تعاون کی پیشکش کرتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس نے پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی تو پاکستان اس کا منہ توڑ جواب دے گا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}