انڈین اداکارائیں امریکی جسم فروش گروہ کے چنگل میں

انڈین اداکارائیں امریکی جسم فروش گروہ کے چنگل میں

June 25, 2018 - 17:44
Posted in:

امریکہ میں ایک انڈین جوڑے کو مبینہ طور پر جسم فروشی کے کاروبار میں ملوث ہونے کے جرم میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اُن پر الزام ہے کہ وہ علاقائی زبانوں میں بننے والی فلموں کی ہیروئنوں کو امریکہ بلا کر ان سے جسم فروشی کرواتے تھے۔تیلیگو زبان کی فلم انڈسٹری کا شمار انڈیا میں علاقائی زبانوں کے سب سے بڑی فلمی صنعت میں ہوتا ہے اور عموماً اُن کی فلمیں مقبولیت میں بالی وڈ فلموں کا ریکارڈ بھی توڑ دیتی ہیں۔انڈین نژاد کشن موڈوگموڈی اور اُن کی بیوی پر فردِ جرم عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے ثقافتی پروگرامز میں شرکت کے لیے کم سے کم پانچ انڈین خواتین کو امریکہ بلوایا۔ پھر مبینہ طور پر ان خواتین کو ایک پروگرام میں لے جایا گیا جہاں کشن نے اُنھیں 'ممکنہ گاہکوں' سے متعارف کروایا جو اُن سے رقم کے عوض سیکس کرنا چاہتے تھے۔ ان افراد نے ایک مرتبہ ہم بستری کرنے کے عوض 450 سے 2500 ہزار ڈالر ادا کیے۔امریکہ کے ہوم لینڈ سکیورٹی کے محکمے کی تحقیقات اور اس جوڑے کے خلاف شواہد اور فرد جرم کی تمام دستاویزات بی بی سی نے حاصل کیں ہیں۔ انڈین جوڑے کو اپریل کے آخر میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ امریکہ میں زیرِ سماعت اس مقدمہ کا تیلیگو ذرائع ابلاغ میں کافی چرچا رہا۔عدالت میں جمع کروائے گئے حلف نامے کے تحت مسٹر کشن اپریل 2014 میں امریکہ آئے۔ انھوں نے ویزے کے لیے دی گئی درخواست میں لکھا ہے کہ وہ تیلیگو فلم انڈسٹری سے وابستہ ہیں اور امریکہ میں 'نئے روابط' بنانے کے لیے آئے ہیں۔ ان کا ویزا چھ ماہ کے بعد ختم ہو گیا لیکن ویزا ختم ہونے کے بعد بھی اس خاندان نے امریکہ میں قیام کیا۔ انھیں ویزا ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ میں قیام کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا لیکن پھر ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

تیلیگو فلم پروڈیسر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ کشن پروڈیوسر کونسل سے وابستہ نہیں ہیں۔ تیلیگو فلم انڈسٹری سے وابستہ نغمہ نگار نے کہا کہ انڈسٹری میں ہراساں کرنے کے واقعات بہت عام ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس انڈسٹری میں اپنا کیریئر بنانے والی خواتین کو اکثر اوقات مرد بیرون ملک دورے کرواتے ہیں۔امریکہ میں مبینہ طور پر جسم فروشی کے لیے جانے والی خواتین انڈسٹری میں نئی آنے والی اداکارائیں ہیں جو عموماً جلد ترقی حاصل کرنے کی خواہش مند ہوتی ہیں۔بالی وڈ کی طرح ٹولی وڈ میں بھی خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات عام ہیں۔ حال ہی میں ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ سری ریڈی فلم تنظیم کے دفتر میں احتجاجاً نیم برہنہ ہو گئی تھیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ واحد طریقہ ہے جس سے خواتین کے جنسی ہراس کے بارے میں توجہ مرکوز کروائی جا سکتی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}