انڈیا میں گائے کے گوشت پر قتل، 11 افراد کو عمر قید

انڈیا میں گائے کے گوشت پر قتل، 11 افراد کو عمر قید

March 22, 2018 - 16:12
Posted in:

انڈیا کی شمالی ریاست جھاڑکھنڈ کی عدالت نے گوشت کا کاروبار کرنے والے ایک شخص کے قتل میں ملوث 11 افراد کو عمر قید کی سزا سنائی ہے۔ 55 برس کے علیم الدین انصاری کو تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا۔ گذشتہ کچھ برسوں کے دوران گوشت کا کاروبار کرنے والے کئی مسلمانوں پر حملے کیے جا چکے ہیں تاہم یہ پہلا موقع ہے جب گائے کے گوشت کی وجہ سے قتل پر سزا سنائی گئی ہے۔ خیال رہے کہ جھارکھنڈ سمیت انڈیا کی متعدد ریاستوں میں ہندو گائے کو مقدس سمجھتے ہیں اور اس کو ذبح کرنا غیر قانونی ہے۔اس قسم کے متعدد واقعات میں اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ پولیس کی تحقیقات آخر میں ملزمان کی رہائی پر ختم ہو جاتی ہیں۔ علیم الدین انصاری کے قتل میں 12 افراد کو حراست میں لیا گیا تھا لیکن عدالت نے 12ویں ملزم کے بارے میں اپنا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا۔ استغاثہ سوشیل کمار شکلا نے انڈین اخبار انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ عدالت نے 12ویں ملزم کو اس لیے شامل نہیں کیا تھا کیونکہ اس کی عمر 16 سے 18 برس کے درمیان تھی۔ علیم الدین انصاری کے بیٹے کا کہنا ہے کہ ان کا خاندان اس فیصلے سے مطمئن ہے تاہم انھیں اس بات پر مایوسی ہے کہ ریاست نے انھیں اب تک کوئی مالی مدد نہیں دی۔ مقتول انصاری کی اہلیہ مریم خاتون نے عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ان کے شوہر کی موت ان کا بہت بڑا نقصان ہے لیکن ’اب میں اور خون خرابہ نہیں چاہتی۔‘انھوں نے کہا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اس معاشرے میں امن کے ساتھ رہنا چاہتی ہیں۔

سنہ 2014 میں بی جے پی کی حکومت کے آنے کے بعد گائے کے تحفظ کے لیے آواز اٹھانے والے گروہوں نے مسلمانوں اور دلتوں پر متعدد حملے کیے۔ گذشتہ برس صبا دیوان نامی لڑکی نے فیس بک پر ان حملوں کے خلاف اس وقت NotInMyName# کے نام سے ایک مہم چلائی جب دہلی میں ایک نوجوان مسلمان لڑکے کو قتل کر دیا گیا تھا۔ اب تک اس قسم کے حملوں میں درجن بھر افراد ہلاک ہو چکے ہیں ان حملوں میں ایسا بھی ہوا کہ گائے کا دودھ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرنے والے مسلمانوں کو بھی غلط اطلاعات پر حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}