امریکی بمبار طیاروں کی شمالی کوریا کے قریب پروازیں

امریکی بمبار طیاروں کی شمالی کوریا کے قریب پروازیں

September 24, 2017 - 01:47
Posted in:

امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی بمبار طیاروں نے کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی صلاحیتوں کو جانچنے کے لیے شمالی کوریا کے قریب سمندر پر پروازیں کی ہیں۔دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ'خودکش مشن' پر ہیں۔پینٹاگون کا کہنا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے یہ پروازیں شمالی اور جنوبی کوریا کی سرحد سے کافی دور شمال میں کی ہیں۔٭ ’بوکھلاہٹ کے شکار امریکہ کو آگ سے جواب دیں گے‘ٹرمپ کی تقریر: 'کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں'دفاع پر مجبور کیا تو امریکہ کوریا کو تباہ کر دے گا: ڈونلڈ ٹرمپشمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ، جاپان کی تشویشپینٹاگون کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا کہ یہ مشن امریکی ارادے کا ثبوت ہے اور واضح پیغام ہے کہ صدر( ٹرمپ) کے پاس کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے متعدد فوجی راستے موجود ہیں۔'ہم امریکی سرزمین اور اپنے اتحادیوں کے دفاع کے لیے تمام فوجی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘دوسری جانب شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ'خودکش مشن' پر ہیں۔شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اپنے خطاب میں صدر ٹرمپ کی جنرل اسمبلی میں کئی گئی تقریر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ' مسٹر ٹرمپ جو ذہنی طور پر بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور ان پر طاقت کا خبط سوار ہے اور وہ اس ناقابل واپس غلطی کو ناگزیر بنا رہے ہیں کہ شمالی کوریا امریکی سرزمین کو راکٹوں سے نشانہ بنا سکتا ہے۔'خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے جنرل اسمبلی میں کی گئی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے کہا تھا کہ 'راکٹ مین خود کش مشن پر ہے'۔شمالی کوریا وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے کہا ہے کہ مسٹر ٹرمپ کو اپنی تقریر کی قیمت چکانا ہو گی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ امریکہ یا اس کے اتحادیوں کو دفاع کر ضرورت پیش آئی تو وہ شمالی کوریا کو مکمل طور پر تباہ کر دیں گے۔اس سے پہلے جمعے کو شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے کہا ہے کہ ’بوکھلاہت کے شکار‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد انھیں یقین ہو گیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے لیے ہتھیار بنانے کے معاملے میں صحیح ہیں۔

اس حکم نامے سے امریکی محکمۂ خزانہ کو ایسی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کو نشانہ بنانے کا اختیار مل گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے ساتھ کاروباری تعلقات ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کے مرکزی بینک نے بھی چین کے دوسرے بینکوں کو پیانگ یانگ کے ساتھ کاروبار روکنے کے لیے کہا ہے۔شمالی کوریا کی جانب سے حالیہ ہفتوں کے دوران جوہری اور بیلسٹک میزائلوں کے مسلسل تجربات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدیگی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔صدر ٹرمپ نے جمعرات کو نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا 'یہ اقدامات آمدن کے ان ذرائع کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں جو شمالی کوریا کو مہلک ہتھیار بنانے کے لیے رقم مہیا کرتے ہیں۔'ٹرمپ کا اشارہ شمالی کوریا کی ٹیکسٹائل، ماہی گیری، آئی ٹی اور مینوفیکچرنگ انڈسٹری کی جانب تھا۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}