امریکہ: مانع حمل ادویات فراہم کرنا اب لازمی نہیں

امریکہ: مانع حمل ادویات فراہم کرنا اب لازمی نہیں

October 07, 2017 - 23:46
Posted in:

امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ نے ایک قانون وضع کیا ہے جس کے تحت ملازمت دینے والوں کو یہ چھوٹ دی گئی ہے کہ اگر ان کے مذہبی یا اخلاقی عقائد کی خلاف ورزی ہو تو ان پر لازم نہیں کہ وہ اپنے ملازموں کو اسقاطِ حمل ادویات فراہم کرنے والی بیمہ پالیسی فراہم کریں۔امریکہ میں خواتین کے حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔’پلینڈ پیرنٹ ہڈ فیڈریشن‘ نامی تنظیم نے کہا کہ اس فیصلے کے ذریعے صدر ٹرمپ نے تقریباً سوا چھ کروڑ خواتین کے برتھ کنٹرول کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔٭ امریکہ: اسقاط حمل میں مدد گار تنظیم کے فنڈز میں اضافہ٭ اسقاطِ حمل: امریکہ میں اہم سیاسی مسئلہایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی نے کہا کہ خواتین کے متعلق انتظامیہ کا اقدام نئی پستیوں تک پہنچ گیا ہے۔امریکی سول لیبرٹیز یونین اور میساچوسیٹس ریاست نے اس فیصلے کو عدالتی طور پر چیلنج کیا ہے جبکہ کانگریس کے رپبلکن رہنماؤں نے اس فیصلے کی تعریف کی ہے۔ ایوان کے سپیکر پال رائن نے کہا 'یہ فیصلہ مذہبی آزادی کے ضمن میں ایک سنگ میل ہے۔'نامہ نگاروں کے مطابق اس تبدیلی کا اثر تقریباً چھ کروڑ امریکی خواتین پر پڑے گا۔

سینیٹر ميگی حسن نے ٹویٹ کیا: ’لاکھوں خواتین نے جنوری میں سڑکوں پر اپنی آواز بلند کی تھی۔ وہ ایسی خاتون مخالف پالیسیوں کی حمایت نہیں کریں گی۔‘ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری سارہ سینڈرس نے کہا: 'صدر ٹرمپ نے پہلی ترمیم اور مذہبی حقوق کی حمایت کی ہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر اس میں مسئلہ کیا ہے؟ سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو صحیح قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ ایسے انسان ہیں جو آئین پر یقین رکھتے ہیں۔ اگر لوگوں کو آئین کو کوئی بات پسند نہیں تو انھیں کانگریس سے اسے تبدیل کرنے کے لیے کہیں۔'

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}