امریکہ اور ایران میں پِستے کی جنگ

امریکہ اور ایران میں پِستے کی جنگ

October 26, 2017 - 12:24
Posted in:

بین الاقوامی تنازعات کے بہت سے شکار ہیں، لیکن ایک شکار ایسا ہے جسے گھر گھر میں کھایا جاتا ہے۔ اور یہ ہے پستہ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی سے پستے کی تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔ دنیا بھر میں پستے کی سالانہ تجارت کی مالیت اربوں ڈالر ہے اور اس میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیوں کہ پستے کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔پستے کی عالمی تجارت کا بڑا حصہ امریکہ اور ایران کے پاس ہے اور گذشتہ عشرے کے دوران ان دونوں ملکوں کا مشترکہ حصہ 70 اور 80 فیصد کے درمیان تھا۔ گذشتہ 40 برس میں ایران میں پستے کے کاشت کاروں کو ملک پر عائد پابندیوں کی وجہ سے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچنے میں مشکلات رہی ہیں۔ پستہ خود ممنوعہ اشیا کی فہرست میں شامل نہیں ہے، لیکن عالمی بینکنگ پر قدغنوں کی وجہ سے ایرانی کاشت کاروں کو کاروبار کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ البتہ 2016 میں ایران کے ایٹمی معاہدے کے بعد حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے اور ایران پر پابندیاں ہٹ گئیں۔ اس کے بعد سے صرف ایرانی تیل ہی نہیں بلکہ پستہ بھی سمندر پار منڈیوں تک پہچنے لگا۔

دعویٰ، جوابِ دعویٰایران کو صرف جغرافیائی فوقیت ہی نہیں ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پستے زیادہ خوش ذائقہ ہیں۔ حالانکہ امریکی اور ایرانی ایک ہی قسم کے بیج استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ترکی پستے کا ذائقہ مختلف ہے۔ تاہم یہی دعویٰ یورپی آڑھتیوں کا بھی ہے کہ ان کا پستہ سب سے لذیذ ہے۔ امریکہ نے ایرانی پستے پر 241 فیصد ڈیوٹی عائد کر رکھی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ پابندیوں کے علاوہ بھی امریکی منڈی ایران کی پہنچ سے باہر ہے۔ دوسری طرف خود ایران کو پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ سعدی کہتے ہیں کہ یہ ان کی صنعت کے پھیلاؤ میں 'بڑی رکاوٹ' ہے۔امریکہ میں 2016 کی اچھی فصل کے بعد وہ اب دنیا میں پستہ پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے، جب کہ ایران دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ دونوں ملک مل کر دنیا بھر میں پستے کی منڈیوں پر چھائے ہوئے ہیں۔ دنیا بھر میں پستے کے شائقین چاہتے ہیں کہ ایرانی پستے کو منڈیوں تک رسائی دی جائے تاکہ وہ اس خشک میوے کی قیمت کم ہو اور وہ زیادہ آسانی سے اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}