اس سیلفی سے چند سعودیوں کو نفرت کیوں؟

اس سیلفی سے چند سعودیوں کو نفرت کیوں؟

October 11, 2017 - 09:57
Posted in:

سعودی عرب میں خواتین کی ڈرائیونگ سے پابندی اٹھائے جانے کے اعلان کے بعد ٹوئٹر پر ایک بحث چھڑ گئی ہے جس کا موضوع ایک سیلفی ہے جس میں ایک شخص اپنی بیوی کو گاڑی چلانا سکھا رہا ہے۔فیصل بدوغیش مشرقی سعودی عرب کے علاقے ظہران میں قائم ایک تیل اور گیس کی کمپنی میں تجزیہ کار ہیں۔ انھوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک خالی کار پارکنگ میں کھینچی گئی ایک تصویر ٹویٹ کی تھی۔ٹویٹ میں لکھا تھا 'میں نے اپنی بیوی کو سکھانا شروع کردیا ہے کہ کیسے پرائیویٹ پارکنگ میں محفوظ اور قانونی طریقے سے گاڑی چلائی جا سکتی ہے، انتظار ہے کہ قانون نافذ العمل ہو'۔٭ سعودی عرب میں خواتین کی ابھی سے گاڑیوں میں دلچسپی* سعودی عرب میں ’تبدیلی کی لہر‘* سعودی عرب: خواتین کے حقوق کی کارکن دوبارہ گرفتاربے چینی سے انتظاربی بی سی عربی کی لامیس الطالبی کے مطابق ہزاروں بار ری ٹویٹ کی جانے والی اس سیلفی پر جو رد عمل سامنے آیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ خواتین کی ڈرائیونگ پر سے پابندی کا اٹھایا جانا کتنا متنازع ہے۔چند لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ فیصل کی اس تصویر کو ناپسند کرتے ہیں جس میں ان کی اہلیہ کا چہرہ نظر آرہا ہے۔ایک صارف نے ان کی تصویر پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا 'آپ کو شرم نہیں آتی اس کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے؟ شرم آنی چاہیے'۔لیکن کئی خواتین نے اس ٹویٹ پر بڑے مثبت رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ بھی منتظر ہیں کہ ان کے خاندان کے مرد بھی انھیں گاڑی چلانا سیکھائیں۔عمل ندھرین نامی خاتون نے کمنٹ کیا 'کل میرا بیٹا عضام مجھے گاڑی چلانا سکھائے گا'۔چند مردوں نے جن میں فیصل الشہری بھی شامل ہیں ٹویٹ کیا 'ہم سب آپ کی قائم کی ہوئی مثال کی تقلید کریں گے'۔

@badughaish کی ٹوئٹر پر پوسٹ کا خاتمہ