اسرائیلیوں سے ملاقاتوں کے بعد پریتی پٹیل کا مستقبل داؤ پر

اسرائیلیوں سے ملاقاتوں کے بعد پریتی پٹیل کا مستقبل داؤ پر

November 08, 2017 - 20:27
Posted in:

برطانوی رکنِ پارلیمان پریتی پٹیل کی اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں پر کھڑے ہونے والے تنازع کے بعد انھیں افریقہ کا دورہ فوری طور پر ختم کر کے برطانیہ واپس آنے کو کہا گیا ہے۔بی بی سی کی پولیٹیکل نامہ نگار لارا کیونسبرگ کہتی ہیں کہ بدھ اس معاملے پر کوئی نہ کوئی کارروائی متوقع تھی اور اب پریتی پٹیل کی برطرفی 'تقریباً یقینی دکھائی دیتی ہے۔'پٹیل نے پیر کو وزیرِ اعظم سے اگست میں اسرائیلی سیاست دانوں سے غیر منظور شدہ ملاقاتیں کرنے پر معذرت کی تھی۔ تاہم اب معلوم ہوا ہے کہ انھوں نے ستمبر میں مزید ملاقاتیں بھی کی تھیں۔ یہ بھی پڑھیےبرطانوی وزیر خارجہ کا بیان ایرانی قیدی کو مہنگا پڑگیا’سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں پراکسی جنگ میں ملوث ہے‘بی بی سی کے سفارتی نامہ نگار جیمز لینڈیل کہتے ہیں کہ بین الاقوامی ترقی کے وزیر نے ان کا یوگینڈا کا دورہ ختم کر دیا ہے اور اب وہ واپس برطانیہ آ رہی ہیں۔ پیر کو ایوانِ وزیرِ اعظم میں پریتی پٹیل کو باضابطہ طور پر تنبیہ کی گئی تھی، اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی چھٹیوں کے دوران اسرائیلی حکام سے ایک درجن کے قریب ملاقاتوں کی تفصیل بتائیں۔ وزارِتِ خارجہ کی جانب سے ان ملاقاتوں کی منظوری نہیں دی گئی تھی۔ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا پٹیل نے وزیرِ اعظم کو ان ملاقاتوں یا اپنے اس منصوبے کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ ٹیکس دہندگان کی رقم اسرائیلی فوج کو دینا چاہتی تھیں تاکہ گولان کی پہاڑیوں پر موجود شامی پناہ گزینوں کو طبی امداد دی جا سکے۔ حکام نے اس درخواست کو 'غیر مناسب' کہہ کر رد کر دیا گیا تھا۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ انھوں نے ستمبر میں دو مزید ملاقاتیں کیں جن میں دوسرے حکام موجود نہیں تھے۔ خیال ہے کہ کنزرویٹیو فرینڈز آف اسرائیل نامی تنظیم کے اعزازی صدر لارڈ پولاک دونوں ملاقاتوں میں موجود تھے۔ پریتی پٹیل نے اسرائیل کے پبلک سکیورٹی کے وزیر گیلاد اردان سے ویسٹ منسٹر میں سات ستمبر کو ملاقات کی تھی۔ بعد میں اردان نے اس ملاقات کے بارے میں ٹویٹ کی تھی۔

منگل کو دارالعوام میں وزارتِ خارجہ کے وزیر الیسٹیر برٹ نے کہا کہ پریتی پٹیل کو تنبیہ دینے اور انھیں وزارت کے ضابطۂ کار کے بارے میں آگاہ کرنے کے بعد ایوانِ وزیرِ اعظم اب اس معاملے کو ختم تصور کرتا ہے۔ پریتی پٹیل طویل عرصے سے اسرائیل کی حامی رہی ہیں اور وہ کنزرویٹیو فرینڈز آف اسرائیل کی سابق نائب چیئر پرسن بھی رہ چکی ہیں۔ لیبر کے سابق لارڈ چانسلر لارڈ فاکنر نے بی بی سی کو بتایا کہ 'انھیں ایک بیرونی ملک کے ساتھ ملی بھگت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ ملک اتحادی ہے یا نہیں۔۔۔ یہ عمل خفیہ طریقے سے کرنے سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ اسرائیلی حکومت کی سفارت کار ہیں نہ کہ برطانوی حکومت کی۔'تاہم کنزرویٹیو وزیر برائے بین الاقوامی ترقی سر ڈیسمنڈ سوین نے کہا کہ اگر پٹیل کو مستعفی ہونے کے لیے کہا گیا تو یہ 'تباہ کن' ہو گا۔ ایک ہفتہ قبل ہی وزیرِ دفاع سر مائیکل فیلن مستعفی ہو چکے ہیں۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}