آصف زرداری کی گرفتاری پیپلز پارٹی پر کتنی بھاری

آصف زرداری کی گرفتاری پیپلز پارٹی پر کتنی بھاری

June 12, 2019 - 08:06
Posted in:

پاکستان میں حزبِ اختلاف کی دو بڑی جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے کارکنان نے منگل کے روز ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔یہ مظاہرے دونوں جماعتوں کے دو اہم قائدین کو قومی احتساب بیورو نیب کی طرف سے محض دو روز کے دورانیے میں گرفتار کیے جانے کے ردِ عمل میں سامنے آئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی اس بات کا عندیہ دے رہی ہے کہ ان کا احتجاج نہ صرف جاری رہے گا بلکہ اس میں شدت آئے گی۔پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنان کراچی، لاہور اور پشاور سمیت ملک کے دوسرے چند شہروں میں سڑکوں پر آئے۔ منی لانڈرنگ کے الزامات میں گرفتار سابق صدر آصف علی زرداری کی نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خلاف لیاری میں پیپلز پارٹی کے کارکنان نے چاکیواڑہ سے لی مارکیٹ تک احتجاجی ریلی نکالی۔ اس کے علاوہ حسن سکوائر اور چند دیگر مقامات پر بھی احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ پشاور اور لاہور میں پیپلز پارٹی کے کارکنان نے اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے پریس کلبوں کا رُخ کیا۔مزید پڑھیےآصف علی زرداری کو کن الزامات کا سامنا ہے؟جعلی اکاونٹس کیس: زرداری کی درخواستیں مسترداب زرداری کا بچنا محال ہے؟’مائی لارڈ رجسٹری نہیں کیش جمع کراؤں گا‘پشاور میں منعقد ہونے والے احتجاج میں مظاہرین نے نیب اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی جبکہ نیب کے سربراہ کی تصویر کو نذرِ آتش بھی کیا گیا۔ صوبہ پنجاب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے احتجاج کا مرکز لاہور رہا۔

فیصل میر نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ سابق صدر آصف علی زرداری اپنے خلاف کرپشن کے الزامات سے نکلنے کے لیے پی پی پی کو استعمال کر رہے تھے۔ ’اگر آصف زرداری نے پیپلز پارٹی کو استعمال کرنا ہوتا تو وہ پہلے کرتے، اب وہ گرفتار ہونے کے بعد کیوں کریں گے۔‘تاہم اس حوالے سے تاحال سوالیہ نشان موجود ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی پنجاب میں وہ تحریک چلا پائے گی جس کا وہ دعوٰی کر رہی ہے۔

BBCUrdu.com بشکریہbody {direction:rtl;} a {display:none;}